تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 365
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الاحزاب وَمَنْ تَرَكَ مِقْدَارَ ذَرَّةٍ مِن وَصَايَاهُ فَقَدْ اور جس نے آپ کے وصایا میں سے کوئی چھوٹی سی وصیت هَوَى۔وَمَنِ ادَّعَى النُّبُوَّةَ مِنْ هذِهِ الْأُمَّةِ، بھی ترک کر دی تو وہ گمراہ ہو گیا۔اور جس نے اس امت وَمَا اعْتَقَدَ بِأَنَّهُ رُبِّي مِنْ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَيْرِ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ خیر البشر الْبَرِيَّةِ، وَبِأَنَّهُ لَيْسَ هُوَ شَيْئًا مِن دُونِ محمد مصطفیٰ کا ہی تربیت یافتہ ہے اور آپ کے اسوہ حسنہ هذِهِ الْأُسْوَةِ، وَأَنَّ الْقُرْآنَ خَاتَمُ کے بغیر بیچ محض ہے اور یہ کہ قرآن کریم خاتم الشرائع ہے الشَّرِيعَةِ، فَقَد هَلَكَ وَالْحَق نَفسَه تو وہ ہلاک ہو گیا اور وہ کافروں اور فاجروں میں جاملا اور بِالْكَفَرَةِ الْفَجَرَةِ، وَمَن ادَّعَى النُّبُوَّةَ وَلَمْ جس شخص نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ يَعْتَقِدُ بِأَنَّهُ مِنْ أُمَّتِهِ وَ بِأَنَّهُ إِنَّمَا وَجَدَ كُل آپ ہی کی امت میں سے ہے اور یہ کہ جو کچھ اس نے پایا مَا وَجَدَ مِنْ فَيُضَانِهِ، وَأَنَّه قمرةٌ تمن ہے وہ آپ ہی کے فیضان سے پایا ہے اور یہ کہ وہ آپ ہی بُسْتَانِهِ، وَقَطْرَةٌ مِّنْ تَهْتَانِهِ، وَشَعْشَعُ مِن کے باغ کا ایک پھل اور آپ ہی کی موسلا دھار بارش کا لَمْعَانِهِ، فَهُوَ مَلْعُونَ وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَيْهِ | ایک قطرہ اور آپ ہی کی روشنی کی ایک کرن ہے تو وہ ملعون وَعَلَى أَنْصَارِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَعْوَانِهِ۔لا نبی ہے اور اس پر اور اس کے ساتھیوں پر اور اس کے اتباع لَنَا تَحْتَ السَّمَاءِ مِنْ دُونِ نَبِيْنَا اور مددگاروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔آسمان کے نیچے الْمُجْتَبى، وَلَا كِتَابَ لَنَا مِنْ دُونِ محمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہمارا کوئی نبی نہیں اور الْقُرْآنِ وَكُلُّ مَنْ خَالَفَهُ فَقَدْ جَر نفسه قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں اور جس نے بھی اس کی مخالفت کی وہ اپنے آپ کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے إِلَى اللَّظى۔(مواهب الرحمن،روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸۵ تا ۲۸۷) گیا۔(ترجمہ از مرتب) خدا تعالی کا یہ دعا سکھلا نا کہ خدا یا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسی کو قتل کرنا چاہا تھا ا صاف بتلا رہا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ایک ٹیسٹی پیدا ہونے والا ہے۔ورنہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی۔اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماء یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے۔پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسی آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے کیونکہ اول تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاءٹھیرا تا ہے۔ماسوا اس کے قرآن شریف