تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 364
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة الاحزاب يَشْهَدُ عَلى بَرَكَاتِ نبينا، ویری کی برکات پر گواہ ہے اور لوگ نبی کریم کا حسن ان تابعین کے النَّاسُ حُسْنَه في حُللِ التَّابِعِينَ لباس میں دیکھتے ہیں جو اپنے کمال محبت وصفائی کی وجہ سے الْفَانِينَ فِيْهِ بِكَمَالِ الْمَحَبَّةِ آپ کے وجود میں فنا ہو گئے اور اس کے خلاف بحث کرنا وَالصَّفَاءِ ، وَمِنَ الْجَهْلِ أَنْ يَقُومَ أَحَدٌ جہالت ہے کیونکہ یہ تو آپ کے ابتر نہ ہونے کا اللہ تعالیٰ کی لِلْمَرَاءِ ، بَلْ هَذَا هُوَ ثُبُوتٌ مِّنَ اللہ طرف سے ثبوت ہے اور تدبر کرنے والوں کے لئے اس کی ينفي كَوْنِهِ أَبتَرَ وَلَا حَاجَةَ إلى تفصیل کی ضرورت نہیں اور آپ جسمانی طور پر تو مردوں میں تَفْصِيلٍ لِمَن تَدَبَّرَ وَ إِنَّهُ مَا كَانَ أَبَا سے کسی کے باپ نہیں لیکن اپنی رسالت کے فیضان کی رو أَحَدٍ مِّنَ الرِّجَالِ مِنْ حَيْثُ سے ہر اس شخص کے باپ ہیں جس نے روحانیت میں کمال الجسْمانِيَّةِ، وَلكِنَّه أَبْ مِنْ حَيْثُ حاصل کیا۔اور آپ تمام انبیاء کے خاتم اور تمام مقبولوں کے فَيْضِ الرَّسَالَةِ لِمَنْ كُتِل في سردار ہیں اور اب خدا تعالی کی درگاہ میں وہی شخص داخل ہو الرُّوْحَانِيَّةِ۔وَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ سکتا ہے جس کے پاس آپ کی مہر کا نقش ہو اور آپ کی سنت پر وَعَلَمُ الْمَقْبُولِينَ، وَلَا يَدْخُلُ الْحَضْرَةَ پوری طرح سے عامل ہو اور اب کوئی عمل اور عبادت آپ کی أَبَدًا إِلَّا الَّذِي مَعَهُ نَقشُ خَاتَمِهِ وَآثَارُ رسالت کے اقرار کے بغیر اور آپ کے دین پر ثابت قدم سُنّتِهِ، وَلَنْ يُقْبَلَ عَمَل وَلَا عِبَادَةٌ إِلَّا رہنے کے بدوں خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوگی اور جو بَعْد الْإقْرَارِ برِسَالَتِهِ، وَالثَّبَاتِ عَلی آپ سے الگ ہو گیا اور اس نے اپنے مقدور اور طاقت کے دِينِهِ وَمِلَّتِهِ۔وَقَدْ هَلَكَ مَن تَرَكَهُ وَمَا مطابق آپ کی پیروی نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔آپ کے بعد اب تبعة في جميع سُنّيهِ عَلى قَدْدٍ وُسْعِه کوئی شریعت نہیں آسکتی اور نہ کوئی آپ کی کتاب اور آپ وَطاقَتِهِ۔وَلَا شَرِيعَةً بَعْدَهُ، وَلَا تاریخ کے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے اور نہ کوئی آپ کے پاک کلام کو لِكِتَابِهِ وَوَصِيَّتِهِ، وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمته، بدل سکتا ہے اور کوئی بارش آپ کی موسلا دھار بارش کی مانند وَلَا قَطرَ كَمُزْنَتِهِ، وَمَنْ خَرَجَ مِفْقَالَ نہیں ہو سکتی۔اور جو قرآن کریم کی پیروی سے ذرہ بھر بھی دور ذَرَّةٍ مِّنَ الْقُرْآنِ، فَقَدْ خَرَجَ مِن ہوا وہ ایمان کے دائرہ سے خارج ہو گیا اور اس وقت تک کوئی الإِيمَانِ، وَلَنْ يُفْلِحُ أَحَدٌ حَتَّى يَتَّبِعَ شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان تمام باتوں کی كُلَّ مَا نَبَتَ مِن نَبِيْنَا الْمُصْطَفى پیروی نہ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں