تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 360

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٦٠ ۳۶ سورة الاحزاب آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑ کی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسی کے نزول کا خیال جو مستلزم تکذیب آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ہے وہ میت کی مہر کو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلاف عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیوں کر ہوسکتا کہ وہ آیت ممدوحہ بالا کے صریح برخلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ سے ظاہر ہے۔ایک غلطی کا ازالہ ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۶) اس نکتہ کو یا درکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں۔یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے۔اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کا ملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعوی کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفی اور مجتبی نہ رکھتا اور نہ خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء کا مجھ کو خطاب دیا جا تا بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا اور ایسا کیوں کہا گیا اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس نے خاتم الانبیاء ٹھیرایا ہے اور پھر دونوں سلسلوں کا تقابل پورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شانِ نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوت عالیہ کی کسر شان نہ ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل ظلیت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلی طور پر نبوت محمدی اس میں رکھ دی تا ایک معنے سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختم نبوت محفوظ رہے۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۱، ۳۸۲ حاشیه ) قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں اُن سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے نص صریح کے برخلاف ہے جیسا کہ آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سے سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے تو پھر اس قدر