تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 342

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة الاحزاب غرض اس سے زیادہ کوئی بات بھی بیہودہ نہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی حقیقتوں کو بدل ڈالنے کا قصد کریں۔اب جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹیوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ یہ آیت ہے وَ حَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (النساء : ۲۴) یعنی تم پہ فقط ان بیٹوں کی جو رواں حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا۔تو اب ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ آخری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متمنی کی جو رو حرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا۔تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو۔۔۔۔اور دوسری جز جس پر اعتراض کی بنیاد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ زینب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کیا تھا صرف زبردستی خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا۔اس کے جواب میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت بدذاتی کا افترا ہے جس کا ہماری کتابوں میں نام و نشان نہیں۔اگر بچے ہیں تو قرآن یا حدیث میں سے دکھلا دیں۔کیسی بے ایمان قوم ہے کہ جھوٹ بولنے سے شرم نہیں کرتی۔اگر افتر انہیں تو ہمیں بتلا دیں کہاں لکھا ہے۔کیا قرآن شریف میں یا بخاری اور مسلم میں۔قرآن شریف کے بعد بالاستقلال وثوق کے لائق ہماری دوہی کہتا میں ہیں ایک بخاری اور ایک مسلم - سوقرآن یا بخاری اور مسلم سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ نکاح زینب کے خلاف مرضی پڑھا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ جس حالت میں زینب زید سے جو آنحضرت کا غلام آزاد تھا راضی نہ تھی اور اسی بناء پرزید نے تنگ آکر طلاق دی تھی اور زینب نے خود آنحضرت کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی اور آنحضرت کے اقارب میں سے اور ممنونِ منت تھی تو زینب کے لئے اس سے بہتر اور کون سی مراد اور کون سی فخر کی جگہ تھی کہ غلام کی قید سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح میں آوے جو خدا کا پیغمبر اور خاتم الانبیاء اور ظاہری بادشاہت اور ملک داری میں بھی دنیا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قیصر اور کسری کانپتے تھے۔دیکھو تمہارے ہندوستان کے راجوں نے محض فخر حاصل کرنے کے لئے مغلیہ خاندان کے بادشاہوں کو باوجود ہندو ہونے کے لڑکیاں دیں اور آپ درخواستیں دے کر اور تمنا کر کے اس سعادت کو حاصل کیا اور اپنے مذہبی قوانین کی بھی کچھ رعایت نہ رکھی بلکہ اپنے گھروں میں ان لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھایا اور اسلام کا طریق