تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 335
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوشش نہ کرو۔۳۳۵ سورة الاحزاب الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۶) مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا یہ لوگ جو ایمان لائے دو قسم کے ہیں۔پہلے تو وہ ہیں جو جاں نثاری کے عہد کو پورا کر چکے اور خدا کی راہ میں شہید ہو گئے اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو شہادت کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں جانیں دیں اور انہوں نے اپنی بات میں ذرا بھی رد و بدل نہیں کی اور اپنے عہد پر قائم رہے۔دی گئی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۸) شیعہ سب وشتم تو کرتے ہیں مگر ان ( صحابہ۔ناقل ) کا کام دیکھو کہ جیسے خدا کی مرضی تھی ویسے ہی اسلام کو پھیلا کر دکھا دیا۔خوب جانتے تھے کہ بیویاں مریں گی۔بچے ذبح ہوں گے اور ہر ایک قسم کی تکلیف شدید ہو گی مگر پھر بھی خدا کے کام سے منہ نہ پھیرا یہی فقرہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک جماعت وہ ہے کہ اپنا نخب ( ذمہ ) ادا کر چکے ہیں جیسے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِر کیسا سر ٹیفیکیٹ ہے کہ بعض نے میری راہ پر جان دی۔ایک جان وہ ہے جس پر عیسائی بھڑک رہے ہیں اور پیچھے سے معلوم ہوا کہ وہ بھی نہیں البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۳) دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں۔۔۔ان میں ایک کشش ہوتی ہے جس سے لوگ ان کی طرف کھیچے چلے آتے ہیں اور جب دعا کی جاتی ہے وہ کشش کے ذریعہ سے زہریلے مادہ پر جولوگوں کے اندر ہوتا ہے اثر کرتی ہے اور اس روحانی مریض کو تسلی اور تسکین بخشتی ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جو کہ بیان میں ہی نہیں آسکتی۔اور اصل مغز شریعت کا یہی ہے کہ وہ کشش طبیعت میں پیدا ہو جاوے۔سچی تقویٰ اور استقامت بغیر اس صاحب کشش کی موجودگی کے پیدا نہیں ہو سکتے اور نہ اس کے سوا قوم بنتی ہے یہی کشش ہے جو کہ دلوں میں قبولیت ڈالتی ہے اس کے بغیر ایک غلام اور نو کر بھی اپنے آقا کی خاطر خواہ فرمانبرداری نہیں کر سکتا اور اسی کے نہ ہونے کی وجہ سے نوکر اور غلام جن پر بڑے انعام و اکرام کئے گئے ہوں آخر کار نمک حرام نکل جاتے ہیں بادشاہوں کی ایک تعداد کثیر ایسے غلاموں کے ہاتھ سے ذبح ہوتی رہی لیکن کیا کوئی ایسی نظیر انبیاء میں دکھلا سکتا ہے کہ کوئی نبی اپنے کسی غلام یا مرید سے قتل ہوا ہے؟ مال اور زر اور کوئی اور ذریعہ دل کو اس۔