تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 326

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة السجدة بہت کی اور آیتیں قرآن شریف کی ہیں جن سے بہداہت یہی معلوم ہوتا ہے کہ رفع الی اللہ اور رجوع الی اللہ کے الفاظ ہمیشہ فوت ہی کے لئے آیا کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قُلْ يَتَوَ قُكُم مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وَكَلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ یعنی وہ فرشتہ تمہیں وفات دے گا جوتم پر مؤکل ہے اور پھر تم اپنے رب کی طرف واپس کئے جاؤ گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۵ حاشیه ) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قَرَةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لئے مخفی ہیں۔سوخدا نے ان تمام نعمتوں کو مخفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم پر مخفی نہیں ہیں اور دودھ اور انار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں۔اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں سواس سے معلوم ہوا کہ وہ چیز میں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا۔اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔اس آیت کی شرح میں جو ابھی میں نے ذکر کی ہے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہشت اور اس کی نعمتیں وہ چیزیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گزریں۔حالانکہ ہم دنیا کی نعمتوں کو آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں اور کانوں سے بھی سنتے ہیں اور دل میں بھی وہ نعمتیں گزرتی ہیں۔پس جبکہ خدا اور رسول اس کا ان چیزوں کو ایک نرالی چیز میں بتلاتا ہے تو ہم قرآن سے دور جا پڑتے ہیں۔اگر یہ گمان کریں کہ بہشت میں بھی دنیا کا ہی دودھ ہو گا جو گائیوں اور بھینسوں سے دوہا جاتا ہے۔گویا دودھ دینے والے جانوروں کے وہاں ریوڑ کے ریوڑ موجود ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں نے بہت سے چھپتے لگائے ہوئے ہوں گے اور فرشتے تلاش کر کے وہ شہد نکالیں گے اور نہروں میں ڈالیں گے کیا ایسے خیالات اس تعلیم سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں جس میں یہ آیتیں موجود ہیں کہ دنیا نے ان چیزوں کو کبھی نہیں دیکھا اور وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت بڑھاتی ہیں اور روحانی غذائیں ہیں۔گوان غذاؤں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر ساتھ ساتھ بتایا گیا ہے کہ ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۸،۳۹۷)