تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 3
سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام لأمنتِهِمْ وَعَهْدِهِم رُعُونَ (٦) وَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ اور ان کے مقابل جسمانی ترقیات کے مراتب بھی چھ قرار دیے ہیں جیسا کہ وہ ان آیات کے بعد فرماتا ہے (۱) ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي ط قَرَارٍ مَّكِينِ (۲) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً (۳) فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً (٤) فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا (۵) فَكَسَوْنَا الْعِظمَ لَحْمًا (٦) ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ - جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ظاہر ہے کہ پہلا مرتبہ روحانی ترقی کا یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ یعنی وہ مومن نجات پاگئے جو اپنی نماز اور یا دالہی میں خشوع اور فروتنی اختیار کرتے ہیں اور رقت اور گدازش سے ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔اس کے مقابل پر پہلا مرتبہ جسمانی نشوونما کا جو اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے یعنی ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةٌ ہا في قَرَارٍ تمکین یعنی پھر ہم نے انسان کو نطفہ بنایا اور وہ نطفہ ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔سوخدا تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے بعد پہلا مرتبہ انسانی وجود کا جسمانی رنگ میں نطفہ کو قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نطفہ ایک ایسا تخم ہے جو اجمالی طور پر مجموعہ ان تمام قومی اور صفات اور اعضاء اندرونی اور بیرونی اور تمام نقش و نگار کا ہوتا ہے جو پانچویں درجہ پر مفصل طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں اور چھٹے درجہ پر اتم اور اکمل طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے اور با ایں ہمہ نطفہ باقی تمام درجات سے زیادہ تر معرض خطر میں ہے۔کیونکہ ابھی وہ اُس تخم کی طرح ہے جس نے ہنوز زمین سے کوئی تعلق نہیں پکڑا۔اور ابھی وہ رحم کی کشش سے بہرہ ور نہیں ہوا ممکن ہے کہ وہ اندام نہانی میں پڑ کر ضائع ہو جائے جیسا کہ تم بعض اوقات پتھریلی زمین پر پڑ کر ضائع ہو جاتا ہے۔اور ممکن ہے کہ وہ نطفہ ہذا تہا ناقص ہو یعنی اپنے اندر ہی کچھ نقص رکھتا ہو اور قابل نشو ونما نہ ہو۔اور یہ استعداد اُس میں نہ ہو کہ رحم اس کو اپنی طرف جذب کرلے اور صرف ایک مردہ کی طرح ہو جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔جیسا کہ ایک بوسیدہ تنم زمین میں بویا جائے۔اور گوز میں عمدہ ہو مگر تا ہم تم بوجہ اپنے ذاتی نقص کے قابل نشو ونما نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ بعض اور عوارض کی وجہ سے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں نطفہ رحم میں تعلق پذیر نہ ہو سکے اور رحم اس کو اپنی کشش سے محروم رکھے۔جیسا کہ تخم بعض اوقات پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے یا پرندے اس کو چنگ جاتے ہیں یا کسی اور حادثہ سے تلف ہو جاتا ہے۔لے درجات سے مراد وہ درجے ہیں جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔پانچواں درجہ وہ ہے جب قدرت صانع مطلق سے انسانی قالب تمام و کمال رحم میں تیار ہو جاتا ہے۔اور ہڈیوں پر ایک خوشنما گوشت چڑھ جاتا ہے۔اور چھٹا درجہ وہ ہے جب اس قالب میں جان پڑ جاتی ہے۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ حالت خشوع اور عجز و نیاز اور سوز وگداز ہے اور درحقیقت وہ بھی اجمالی طور پر مجموعہ اُن تمام امور کا ہے جو بعد میں کھلے طور پر انسان کے روحانی وجود میں نمایاں ہوتے ہیں۔منہ