تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 2
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة المؤمنون ضروری ہیں اپنے کمال روحانی اور جسمانی کو پہنچتا ہے۔سوخدا نے دونوں قسم کی ترقیات کو چھ چھ مرتبہ پر تقسیم کیا ہے اور مرتبہ ششم کو کمال ترقی کا مرتبہ قرار دیا ہے اور یہ مطابقت روحانی اور جسمانی وجود کی ترقیات کی ایسے خارق عادت طور پر دکھلائی ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے کبھی کسی انسان کے ذہن نے اس نکتہ معرفت کی طرف سبقت نہیں کی۔اور اگر کوئی دعوے کرے کہ سبقت کی ہے تو یہ بار ثبوت اُس کی گردن پر ہوگا کہ یہ پاک فلاسفی کسی انسان کی کتاب میں سے دکھلاوے اور یہ یادر ہے کہ وہ ایسا ہرگز ثابت نہیں کر سکے گا۔پس بدیہی طور پر یہ معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وہ عمیق مناسبت جو روحانی اور جسمانی وجود کی اُن ترقیات میں ہے جو وجود کامل کے مرتبہ تک پیش آتی ہیں ان آیات مبارکہ میں ظاہر کر دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اور باطنی صنعت ایک ہی ہاتھ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جو خدا تعالی کا ہاتھ ہے۔بعض نادانوں نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے نطفہ کی حالت سے لے کر اخیر تک جسمانی وجود کا قرآن شریف میں نقشہ کھینچا ہے یہ نقشہ اس زمانہ کی جدید تحقیقات طبی کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔لیکن اُن کی حماقت ہے کہ ان آیات کے معنی انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ گویا خدا تعالیٰ رحم کے اندر انسانی وجود کو اس طرح بناتا ہے کہ پہلے بکی ایک عضو سے فراغت کر لیتا ہے پھر دوسرا بناتا ہے۔یہ آیات الہیہ کا منشا نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا ہے اور مضغہ سے لے کر ہر ایک حالت کے بچے کو دیکھ لیا ہے۔خالق حقیقی رحم کے اندر تمام اعضاء اندرونی و بیرونی کو ایک ہی زمانہ میں بناتا ہے یعنی ایک ہی وقت میں سب بنتے ہیں تا خیر تقدیم نہیں۔البتہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے تمام وجود انسان کا ایک جما ہوا خون ہوتا ہے اور پھر سارے کا سارا ایک ہی وقت میں مضغہ بن جاتا ہے اور پھر ایک ہی وقت میں کچھ حصہ اس کا اپنے اپنے موقعہ پر ہڈیاں بن جاتا ہے اور پھر ایک ہی وقت میں اس تمام مجموعہ پر ایک زائد گوشت چڑھ جاتا ہے جو تمام بدن کی کھال کہلاتی ہے جس سے خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔اور اس مرتبہ پر جسمانی بناوٹ تمام ہو جاتی ہے اور پھر جان پڑ جاتی ہے۔یہ وہ تمام حالتیں ہیں جو ہم نے بچشم خود دیکھ لی ہیں۔اب ہم روحانی مراتب ستہ کا ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (1) قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ (٢) وَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (۳) وَالَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكوة فَعِلُونَ (۴) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا - و مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْعَدُونَ (۵) وَالَّذِينَ هُمْ