تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 307

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردوں کو زندہ کرنا تھا۔۳۰۷ سورة الروم اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۸) یہ بات ہر ایک عقل سلیم قبول کرلے گی کہ کمال اصلاح کی نوبت کمال فساد کے بعد آتی ہے۔طبیب کا یہ کام نہیں کہ وہ چنگے بھلے لوگوں کو وہ دوائیں دے جو عین بیماری کے غلبہ کے وقت دینی چاہئیں اسی لئے قرآن شریف نے پہلے یہ بیان کر دیا کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی تمام دنیا میں فساد پھیل گیا اور ہر ایک قسم کے گناہ اور معاصی کا طوفان برپا ہو گیا اور پھر ہر ایک بد عقیدگی اور بدعملی کے بارے میں مکمل ہدایتیں پیش کر کے فرمایا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ٤ ) یعنی آج میں نے تمہارا دین کامل عمل کر دیا۔مگر کسی پہلے زمانہ میں جس میں ابھی طوفانِ ضلالت بھی جوش میں نہیں آیا تھا مکمل کتاب کیوں کر انسانوں کو مل سکتی ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷ ۱۴۸،۱۴) پادری فنڈل صاحب مصنف میزان الحق جو عیسائی مذہب کا سخت حامی ایک یورپین انگریز ہے وہ اپنی کتاب میزان الحق میں لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سب قوموں سے زیادہ بگڑی ہوئی عیسائی قوم تھی اور ان کی بد چلنیاں عیسائی مذہب کی عار اور جنگ کا موجب تھیں اور خود قرآن شریف بھی اپنے نزول کی ضرورت کے لئے یہ آیت پیش کرتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ کوئی قوم خواہ وحشیانہ حالت رکھتی ہیں اور خواہ نظمندی کا دعویٰ کرتی ہیں فساد سے خالی نہیں ہیں۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶۲) یہ امت مرحومہ ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئی ہے کہ جس کے لئے آفات پیدا ہونے لگی ہیں۔انسان کی حرکت گناہوں اور معاصی کی طرف ایسی ہے جیسے کہ ایک پتھر نیچے کو چلا جاتا ہے۔امت مرحومہ اس لئے کہلاتی ہے کہ معاصی کا زور ہو گیا جیسے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ اور دوسری جگہ فرمایا یخی الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم :۲۰)۔ان سب آیات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو نقشے دکھائے ہیں۔اول الذکر میں تو اس زمانہ کا جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے۔اس وقت بھی چونکہ دنیا کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہو گئی تھی۔اخلاق ، اعمال،عقائد سب کا نام ونشان اُٹھ گیا تھا۔اس لئے اس امت کو مرحومہ کہا گیا کیونکہ اس وقت بڑے ہی رحم کی ضرورت تھی اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۷،۱۴۶)