تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 306

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۶ سورة الروم جس کی رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں حالانکہ قرآن کریم اول سے آخر تک یہ التزام رکھتا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال لیتا ہے یا اس کے واقعات خاصہ بیان کر دیتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۴) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا۔کیا تمہارے معبودوں میں سے جو انسانوں میں سے ہیں کوئی ایسا کر سکتا ہے۔پاک ہے خدا ان بہتانوں سے جو مشرک جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۸) لوگ اس پر لگا رہے ہیں۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔وہ رسول اس وقت آیا کہ جب جنگل اور دریا میں فساد ظاہر ہو گیا یعنی تمام روئے زمین پر ظلمت اور ضلالت پھیل گئی اور کیا اُمّی لوگ اور کیا اہل کتاب اور اہل علم سب کے سب بگڑ گئے اور کوئی حق پر قائم نہ رہا اور یہ سب فساد اس لئے ہوا کہ لوگوں کے دلوں سے خلوص اور صدق اُٹھ گیا اور ان کے اعمال خدا کے لئے نہ رہے بلکہ ان میں بہت سا خلل واقع ہو گیا اور وہ سب رو بدنیا ہو گئے اور روبحق نہ رہے اس لئے امداد الہی ان سے منقطع ہو گئی سوخدا نے اپنی حجت پوری کرنے کے لئے ان کے لئے اپنا رسول بھیجا تا ان کو ان کے بعض عملوں کا مزہ چکھا دے اور تا ایسا ہو کہ وہ رجوع کریں۔( بر این احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۳۳، ۶۳۴) ۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی تھا کہ میں تمام قوموں کے لئے آیا ہوں سو قرآن شریف نے تمام قوموں کو ملزم کیا ہے کہ وہ طرح طرح کے شرک اور فسق اور نجور میں مبتلا ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ في الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے۔( نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۶) ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں مبعوث ہوئے تھے جبکہ دنیا ہر ایک پہلو سے خراب اور تباہ ہو چکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے۔یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں وہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے۔پس قرآن شریف کا کام در اصل