تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 305
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة الروم فطر کے معنے پھاڑنے کے ہیں اور فطرت سے یہ مراد ہے کہ انسان خاص طور پر پھاڑا گیا ہے۔جب آسمان سے قوت آتی ہے تو نیک قو تیں پھٹنی شروع کر دیتی ہیں۔الحام جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ارفروری ۱۹۰۴ صفحه ۵) مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ " تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكيْنَ لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلعم فرماتے ہیں کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں۔سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی و أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ - الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۰) قرآن مجید نے خود حدیث کو اپنا خادم و مفسر قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض احکام ایسے طور پر بیان کئے ہیں کہ وہ بلا تفصیل صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مسلمان مخاطب قرآن کی سمجھ میں نہ آتے اور نہ وہ دستور العمل ٹھہرائے جاسکتے۔ایک حکم نماز ہی کو دیکھ لو قرآن میں اس کی نسبت صرف یہ ارشاد ہے آقِیمُوا الصلوة اور کہیں اس کی تفسیر نہیں ہے کہ نماز کیوں کر قائم کی جائے۔صاحب الحدیث آنحضرت صلعم (پانچ هُوَ وَ امّی) نے قولی و علی حدیثوں سے بتایا کہ نماز یوں پڑھی جاتی ہے تو وہ حکم قرآن سمجھ عمل میں آیا۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۵۵) اللهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُبيتُكُم ثُمَّ يُحْيِيكُم هَلْ مِنْ شُرَكَا بِكُم مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ سُبُحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا قانونِ قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے پھر تکمیل اور تربیت کے لئے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقسوم اسے ملتا ہے۔پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان آیات میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں