تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 304
۳۰۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الروم کتابیں ایک طرف رکھیں اور ایک طرف انا الموجود خدا کا کہنا تو اس کے مقابل وہ تمام دفتر بیچ ہیں جو فلاسفر کہلا کر اندھے رہے۔وہ ہمیں کیا سکھائیں گے۔غرض اگر خدا تعالیٰ نے حق کے طالبوں کو کامل معرفت دینے کا ارادہ فرمایا ہے تو ضرور اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا طریق کھلا رکھا ہے۔اس بارے میں اللہ جل شانہ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة :٢)- (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۴ تا ۴۳۷) روح کا خدائے واحد لاشریک کا طلبگار ہونا اور بغیر خدا کے وصال کے کسی چیز میں کچی خوشحالی نہ پانا یہ انسانی فطرت میں داخل ہے یعنی خدا نے اس خواہش کو انسانی روح میں پیدا کر رکھا ہے جو انسانی روح کسی چیز سے تسلی اور سیکنت بجز وصال الہی کے نہیں پا سکتی۔پس اگر انسانی روح میں یہ خواہش موجود ہے تو ضرور ماننا پڑتا کہ روح خدا کی پیدا کردہ ہے جس نے اس میں یہ خواہش ڈال دی مگر یہ خواہش تو در حقیقت انسانی روح میں موجود ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ انسانی روح در حقیقت خدا کی پیدا کردہ ہے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر دو چیزوں میں کوئی ذاتی تعلق درمیان ہو اسی قدر ان میں اس تعلق کی وجہ سے محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے اور بچہ کو اپنی ماں سے کیونکہ وہ اس کے خون سے پیدا ہوا ہے اور اس کے رحم میں پرورش پائی ہے پس اگر روحوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق پیدائش کا درمیان نہیں اور وہ قدیم سے خود بخود ہیں تو عقل قبول نہیں کر سکتی کہ ان کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو اور جب ان کی فطرت میں پر میشر کی محبت نہیں تو وہ کسی طرح نجات پاہی نہیں سکتیں۔(چشم مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۶۴) آیت فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا کے معنی یہی ہیں کہ اسلام فطرتی مذہب ہے۔انسان کی بناوٹ جس مذہب کو چاہتی ہے وہ اسلام ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اسلام میں بناوٹ نہیں ہے۔اس کے تمام اصول فطرت انسانی کے موافق ہیں تثلیث اور کفارہ کی طرح نہیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آسکتے۔عیسائیوں نے خود مانا ہے کہ جہاں تثلیث نہیں گئی وہاں توحید کا مطالبہ ہوگا کیونکہ فطرت کے موافق توحید ہی ہے۔اگر قرآن شریف نہ بھی ہوتا تب بھی انسانی فطرت توحید ہی کو مانتی کیونکہ وہ باطنی شریعت کے موافق ہے۔ایسا ہی اسلام کی کل تعلیم باطنی شریعت کے موافق ہے برخلاف عیسائیوں کی تعلیم کے جو مخالف ہے۔دیکھو حال ہی میں امریکہ میں طلاق کا قانون خلاف انجیل پاس کرنا پڑا۔یہ وقت کیوں پیش آئی اس لئے کہ انجیل کی تعلیم فطرت کے موافق یہ تھی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶)