تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 290
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة الروم ابو بکر صدیق کوحکم فرمایا اور فرمایا کہ بضع سنین کا لفظ مجمل ہے اور اکثر نو برس تک اطلاق پاتا ہے۔(ازالہ اوبام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۱۱،۳۱۰) ان بادشاہوں کے مثیلوں کا قرآن شریف میں ذکر ہے جنہوں نے یہودیوں کے سلاطین کی بدچلنی کے وقت اُن کے ممالک پر قبضہ کیا جیسا کہ آیت غُلِبَتِ الرُّومُ فِي اَدنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ سے ظاہر ہوتا ہے۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ روم سے مراد نصاری ہیں۔اور وہ آخری زمانہ میں پھر اسلامی ممالک کے کچھ حصے دبا لیں گے۔اور اسلامی بادشاہوں کے ممالک اُن کی بدچلنیوں کے وقت میں اُسی طرح نصاری کے قبضے میں آجائیں گے جیسا کہ اسرائیلی بادشاہوں کی بدچلنیوں کے وقت رومی سلطنت نے ان کا ملک دبا لیا تھا پس واضح ہو کہ یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہوگئی۔مثلاً روس نے جو کچھ رومی سلطنت کو خدا کی ازلی مشیت سے نقصان پہنچایا وہ پوشیدہ نہیں۔اور اس آیت میں جبکہ دوسرے طور پر معنے کئے جائیں غالب ہونے کے وقت میں روم سے مراد قیصر روم کا خاندان نہیں کیونکہ وہ خاندان اسلام کے ہاتھ سے تباہ ہو چکا بلکہ اس جگہ بروزی طور پر روم سے روس اور دوسری عیسائی سلطنتیں مراد ہیں جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں۔یہ آیت اوّل اس موقعہ پر نازل ہوئی تھی جبکہ کسری شاہ ایران نے بعض حدود پر لڑائی کر کے قیصر شاہ روم کو مغلوب کر دیا تھا۔پھر جب اس پیشگوئی کے مطاق بضع سنین میں قیصر روم شاہ ایران پر غالب آ گیا تو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ غُلِبَتِ الرُّومُ في ادنی الْأَرْضِ الخ جس کا مطلب یہ تھا کہ رومی سلطنت اب تو غالب آگئی مگر پھر بضع سنین میں اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے۔مگر باوجود اس کے کہ دوسری قراءت میں غَلَبَتْ کا صیغہ ماضی معلوم تھا اور سَيُغْلَبُونَ کا صیغہ مضارع مجہول تھا مگر پھر بھی پہلی قراءت جس میں خُلِبَت کا صیغہ ماضی مجہول تھا اور سَيَغْلِبُونَ مضارع معلوم تھا منسوخ التلاوت نہیں ہوئی۔بلکہ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف سناتے رہے جس سے اس سنت اللہ کے موافق جو قرآن شریف کے نزول میں ہے یہ ثابت ہوا کہ ایک مرتبہ پھر مقدر ہے کہ عیسائی سلطنت روم کے بعض حدود کو پھر اپنے قبضہ میں کرلے گی۔اسی بنا پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے یعنی نصاری۔اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاریٰ مراد ہیں۔(تحفہ گولار و سید، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۸،۳۰۷)