تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 289

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۸۹ سورة الروم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الرُّوم بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فى فى أدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ) في بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَبِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ جبکہ خدائے تعالیٰ کے قانون قدرت نے مکاشفات اور رویائے صالحہ کے لئے یہی اصل مقرر کر دیا ہے کہ وہ اکثر استعارات سے پُر ہوتے ہیں تو اس اصل سے معنے کو پھیرنا اور یہ دعوی کرنا کہ ہمیشہ پیشگوئیاں ظاہر پر ہی محمول ہوتی ہیں اگر الحاد نہیں تو اور کیا ہے ؟ صوم اور صلوٰۃ کی طرح پیشگوئی کو بھی ایک حقیقت منکشفہ سمجھنا بڑی غلطی اور بڑا بھارا دھوکہ ہے۔یہ احکام تو وہ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھلا دیئے اور بھی اُن کا پردہ اُٹھا دیا۔مگر کیا ان پیشگوئیوں کے حق میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ یہ من کل الوجوہ مکشوف ہیں اور ان میں کوئی ایسی حقیقت اور کیفیت مخفی نہیں جو ظہور کے وقت سمجھ آسکے اگر کوئی ایسی حدیث صحیح موجود ہے تو کیوں پیش نہیں کی جاتی۔۔۔۔۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو جہل سے شرط لگائی اور قرآن شریف کی وہ پیشگوئی مدار شرط رکھی کہ الم - غُلِبَتِ الرُّوم - في أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعَ سِنِينَ۔اور تین برس کا عرصہ ٹھہرایا تو آپ پیشگوئی کی صورت کو دیکھ کر فی الفور دور اندیشی کو کام میں لائے اور شرط کی کسی قدر ترمیم کرنے کے لئے