تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 281

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة العنكبوت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة :(٦) سوانسان کو چاہیے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعا کرے اور تمنا رکھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ اس رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۹) جہان سے بے بصیرت اور اندھا اٹھایا جاوے۔ - سارا مدار مجاہدہ پر ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم ان کے لئے اپنی تمام راہیں کھول دیتے ہیں ۔ مجاہدہ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ کہتے کہ سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک نظر میں چور کو قطب بنا دیا ۔ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسی ہی باتوں نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کی جھاڑ پھونک سے کوئی بزرگ بن جاتا ہے۔ جو لوگ خدا کے ساتھ جلدی کرتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ دنیا میں ہر چیز کی ترقی تدریجی ہے۔ روحانی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور بدوں مجاہدہ کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور مجاہدہ بھی وہ جو خدا تعالیٰ میں ہو کر ۔ یہ نہیں کہ قرآن کریم کے خلاف خود ہی بے فائدہ ریاضتیں اور مجاہدہ جو گیوں کی طرح تجویز کر بیٹھے۔ یہی کام ہے جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا ہے تا کہ میں دنیا کو دکھلا دوں کہ کس پاتے ہیں ۔ طرح پر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔ نہ سب محروم رہتے ہیں اور نہ سب ہدایت الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ ء صفحه ۶) جولوگ ہم میں ہو کر سعی اور مجاہدہ کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنی راہوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ان پر دروازے کھولے جاتے ہیں یہ سچی بات ہے کہ جو ڈھونڈتے ہیں پاتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا اے خواجہ درد نیست ورنہ طبیب هست الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۸) مجاہدہ ایک ایسی شے ہے کہ اس کے بدوں انسان کسی ترقی کے بلند مقام کو پانہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلنا جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ غرض مجاہدہ کرو اور خدا میں ہو کر کرو تا کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں اور ان راہوں پر چل کر تم اس لذت کو حاصل کر سکو جو خدا میں ملتی ہے۔ اس مقام پر مصائب اور مشکلات کی کچھ حقیقت نہیں رہتی یہ وہ مقام ہے جس کو قرآن شریف کی اصطلاح میں شہید کہتے ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۵ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۱ ء صفحه ۲،۱)