تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 280
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة العنكبوت نہیں۔مگر یہ نعمت دیر کے بعد عطا ہوتی ہے۔اول اول انسان اپنی کمزوریوں سے بہت سی ٹھوکریں کھاتا ہے اور اسفل کی طرف گر جاتا ہے مگر آخر اس کو صادق پا کر طاقت بالا بیچ لیتی ہے۔اس کی طرف اشارہ ہے جو وو اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا عن نُثَبِّتُهُمْ عَلَى التَّقْوى وَ الْإِيْمَانِ وَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَ الْمَحَبَّةِ وَ الْعِرْفَانِ وَسَنُيَسِرُهُمْ لِفِعْلِ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكِ الْعِصْيَانِ ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۱،۵۰) وو روح القدس کی تائید جو مومن کے شامل ہوتی ہے وہ محض خدا تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے جو ان کو ملتا ہے جو سچے دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں۔وہ کسی مجاہدہ سے نہیں ملتا محض ایمان سے ملتا ہے اور مفت ملتا ہے صرف یہ شرط ہے کہ ایسا شخص ایمان میں صادق ہو اور قدم میں استوار اور امتحان کے وقت صابر ہولیکن خدائے عزوجل کی لائی ہدایت جو اس آیت میں مذکور ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا وہ بجز مجاہدہ کے نہیں ملتی۔مجاہدہ کرنے والا ابھی مثل اندھے کے ہوتا ہے اور اس میں اور بینا ہونے میں ابھی بہت فاصلہ ہوتا ہے مگر روح القدس کی تائید اس کو نیک فن کر دیتی ہے اور اس کو قوت دیتی ہے جو وہ مجاہدہ کی طرف راغب ہوا اور مجاہدہ کے بعد انسان کو ایک اور روح ملتی ہے جو پہلی روح سے بہت قوی اور زبردست ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہ دو روحیں ہیں۔روح القدس ایک ہی ہے صرف فرق مراتب قوت کا ہے جیسا کہ دو خدا نہیں ہیں صرف ایک خدا ہے مگر وہی خدا جن خاص تجلیات کے ساتھ ان لوگوں کا ناصر اور مربی ہوتا اور ان کے لئے خارق عادت عجائبات دکھاتا ہے وہ دوسروں کو ایسے عجائبات قدرت ہرگز نہیں دکھلاتا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۶،۴۲۵) پھر وہ لوگ روح القدس کی طاقت سے بہرہ ور ہو کر ان مجاہدات میں لگے کہ اپنے پاک اعمال کے ساتھ شیطان پر غالب آجائیں تب انہوں نے خدا کے راضی کرنے کے لئے ان مجاہدات کو اختیار کیا کہ جن سے بڑھ کر انسان کے لئے متصور نہیں۔انہوں نے خدا کی راہ میں اپنی جانوں کا خس و خاشاک کی طرح بھی قدرنہ کیا۔آخر وہ قبول کئے گئے اور خدا نے ان کے دلوں کو گناہ سے بکلی بیزار کر دیا اور نیکی کی محبت ڈال دی جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیا کرتے ہیں۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۵) جو ہمارے راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے۔یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دعا ہے کہ