تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 279

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۹ سورة العنكبوت کے لئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہوگا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیں گے اور جن لوگوں نے بجی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمارا افعل اس کی نسبت یہ ہوگا کہ ہم ان کے دلوں کو سکھ کر دیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۹) جولوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجالاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۹) جولوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دیں گے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئی تھیں۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۲) جولوگ ہماری راہ میں اور ہماری طلب کے لئے طرح طرح کی کوششیں اور محنتیں کرتے ہیں ہم ان کو اپنی لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۹) راہ دکھلا دیتے ہیں۔جولوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہاء تک پہنچادیتے ہیں انہیں کے لئے ہمارا یہ قانونِ قدرت ہے کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۷) جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ اختیار کرتے ہیں اور جو کچھ ان سے اور ان کی قوتوں سے ہوسکتا ہے بجالاتے ہیں تب عنایت حضرت احدیت ان کا ہاتھ پکڑتی ہے اور جو کام ان سے نہیں ہوسکتا تھا وہ آپ کر دکھلاتی ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۴ حاشیه ) قرآن شریف میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص سچے دل سے خدا تعالی پر ایمان لائے گا خداس کو ضائع نہیں کرے گا اور حق اس پر کھول دے گا اور راہِ راست اس کو دکھائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ہیں اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالی پر ایمان لانے والا ضائع نہیں کیا جاتا آخر اللہ تعالیٰ پوری ہدایت اس کو کر دیتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۹) انسان کے دل پر کئی قسم کی حالتیں وارد ہوتی رہتی ہیں۔آخر خدا تعالیٰ سعید روحوں کی کمزوری کو دور کرتا ہے اور پاکیزگی اور نیکی کی قوت بطور موہبت عطا فرماتا ہے۔پھر اس کی نظر میں وہ سب باتیں مکروہ ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہیں۔اور وہ سب راہیں پیاری ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری ہیں۔تب اس کو ایک ایسی طاقت ملتی ہے جس کے بعد ضعف نہیں اور ایک ایسا جوش عطا ہوتا ہے جس کے بعد کسل نہیں اور ایسی تقوی دی جاتی ہے کہ جس کے بعد معصیت نہیں اور رب کریم ایسا راضی ہو جاتا ہے کہ جس کے بعد خطا