تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 277

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۷۷ سورة العنكبوت قف كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ) بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لئے رخصت نہیں ہوسکتا۔وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی درواز ہے كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۶) ہر نفس موت کا مزا چکھے گا اور پھر ہماری طرف واپس کئے جاؤ گے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۵ حاشیه ) وَمَا هَذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهُوَ وَ لَعِب وَ اِنَّ الدّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(۶۵) وہ کامل حیات جو اس سفلی دنیا کے چھوڑنے کے بعد ملتی ہے وہ جسم خاکی کی حیات نہیں بلکہ اور رنگ اور شان کی حیات ہے۔قال الله تعالى وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۲) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَفِرِينَ افترا کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ اگر تو افتر اکرے تو تیری رگ جان ہم کاٹ ڈالیں گے اور ایسا ہی فرمايا مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام :۲۲) ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افترا کی جرات کیوں کر کر سکتا ہے۔ظاہری گورنمنٹ میں ایک شخص اگر فرضی چپڑاسی بن جائے تو اس کو سزا دی جاتی ہے اور وہ جیل میں بھیجا جاتا ہے تو کیا خدا کی ہی مقتدر حکومت میں یہ اندھیر ہے کہ کوئی جھوٹا دعوی مامور من اللہ ہونے کا کرے اور پکڑا نہ جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے۔اس طرح تو دہریت پھیلتی ہے۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں میں لکھا ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۴، صفحہ ۷ )