تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 270

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة العنكبوت نام بھی لے سکتے جن پر کوئی حال ان کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف کوئی ثابت کریں اور اس کو مشتہر کر دیں۔جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کر دیتے اور اسی جہت سے ان کو ان کی ہر یک بدظنی پر ایسا مسکت جواب دیا جاتا تھا کہ وہ ساکت اور لا جواب رہ جاتے تھے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۶۹ تا ۵۷۲) بَلْ هُوَ ايت بينت فِي صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ یعنی قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جبکہ قرآن کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو پھر یہ آیت که إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لحفظون ( الحجر :١٠) بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاری کے سینوں سے محو کی گئی اور گوتوریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہو گئی یعنی ان کے دل اس پر قائم نہ رہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کے اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا بر باد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اول سے اس کا پودہ دلوں میں جمایا گیا یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۱،۳۵۰) و، b وَقَالُوا لَو لَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْتَ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِين اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ قُلْ كَفَى بِاللهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوا بِاللهِ أُولَبِكَ هُمُ الخسِرُونَ وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَوْ لَا اَجَل مُّسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَوْ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (۵۴) کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں (جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں ) وہ تو