تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 260
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ سورة العنكبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کس قدر عظیم الشان معجزہ ہے کہ ہر طرف سے مخالفت ہوتی تھی مگر آپ ہر میدان میں کامیاب ہی ہوتے تھے۔صحابہ کے لئے یہ کیسی دل خوش کرنے والی دلیل تھی جب وہ اس نظارے کو دیکھتے تھے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۵) ہم ابتلاء سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے ترقیات کا ذریعہ صرف ابتلاء ہی رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۹۹) ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے مومن کو چاہیے کہ ایک بہادر کی طرح ان کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ مومن کو تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ابتلاؤں کو اس لئے نازل کرتا ہے کہ اس کے گناہ بخشے اور اس کا مرتبہ زیادہ کرے۔مکتوبات احمد یہ جلد ۵ حصہ اول صفحه ۱۲ ( مکتوب نمبر ۲۸ بنام حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی ) وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنْدُ خِلَنَّهُمْ فِي الصَّلِحِينَ یعنی ہماری یہی سنت مستمرہ قدیمہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاویں اور عمل صالح کریں ہم ان کو صالحین میں داخل کر لیا کرتے ہیں۔اب حضرت مولوی صاحب دیکھئے کہ لند خلَنَّهُمْ میں نون ثقیلہ ہے لیکن اگر اس جگہ آپ کی طرز پر معنے کئے جائیں تو اس قدر فساد لازم آتا ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں کیونکہ اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ یہ قاعدہ آئندہ کے لئے باندھا گیا ہے اور اب تک کوئی نیک اعمال بجالا کر صلحاء میں داخل نہیں کیا گیا۔گویا آئندہ کے لئے گنہ گار لوگوں کی تو بہ منظور ہے اور پہلے اس سے دروازہ بند ہو رہا ہے۔سو آپ سوچیں کہ ایسے معنے کرنا کس قدر مفاسد کو مستلزم ہے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۴) جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ہم ان کو ضرور ضرور صالحین میں داخل کر دیتے ہیں۔اس پر بعض اعتراض کرتے ہیں کہ اعمال صالحہ کرنے والے صالحین ہوتے ہیں پھر ان کو صالحین میں داخل کرنے سے کیا مراد ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ صلاحیت کی دو قسم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقہ اٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔نیکیاں کرتا ہے لیکن ان کے کرنے میں اسے تکلیف اور بوجھ معلوم ہوتا ہے اور اندر نفس کے کشاکش موجود ہوتی ہے اور جب وہ نفس کی مخالفت کرتا ہے تو سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب وہ اعمالِ صالحہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر