تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 259

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کچھ تیاری کرنی از بس لازمی ہے۔۲۵۹ سورة العنكبوت الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۲) خطرناک مشکلات میں ثابت قدم رہنا اور قدم آگے ہی آگے اُٹھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہو جانا کچے اور حقیقی ایمان کی دلیل ہے۔مشکلات کا آنا اور ابتلاؤں کا آنا مومن پر ضروری ہے تا ظاہر ہو کہ کون سچا مومن اور کون صرف زبانی ایمان کا مدعی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احسبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۸) هُمْ لَا يُفْتَنُونَ - یہ ضرور ہے کہ مخالف بھی ہوں کیونکہ سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر شخص جو خدا کی طرف قدم اُٹھاتا ہے اس کے لئے امتحان ضروری رکھا ہوا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے احسبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - امتحان خدا کی عادت ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ عالم الغیب خدا کو امتحان کی کیا ضرورت ہے؟ یہ اپنی سمجھ کی غلطی ہے اللہ تعالیٰ امتحان کا محتاج نہیں ہے انسان خود محتاج ہے تاکہ اس کو اپنے حالات کی اطلاع ہو اور اپنے ایمان کی حقیقت کھلے۔مخالفانہ رائے سن کر اگر مغلوب ہو جاوے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قوت نہیں ہے۔جس قدر علوم و فنون دنیا میں ہیں بدوں امتحان ان کو سمجھ نہیں سکتا۔خدا کا امتحان یہی ہے کہ انسان سمجھ جاوے کہ میری حالت کیسی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مامور من اللہ کے دشمن ضرور ہوتے ہیں جو ان کو تکلیفیں اور اذیتیں دیتے ہیں۔توہین کرتے ہیں۔ایسے وقت میں سعید الفطرت اپنی روشن ضمیری سے ان کی صداقت کو پالیتے ہیں۔پس ماموروں کے مخالفوں کا وجود بھی اس لئے ضروری ہے جیسے پھولوں کے ساتھ کانٹے کا وجود ہے۔تریاق بھی ہے تو زہریں بھی ہیں۔کوئی ہم کو کسی نبی کے زمانہ کا پتہ دے جس کے مخالف نہ ہوئے ہوں اور جنہوں نے اس کو دکاندار ، ٹھنگ، جھوٹا، مفتری ، نہ کہا ہو۔موسیٰ علیہ السلام پر بھی افتر ا کر دیا یہاں تک کہ ایک پلید نے تو زنا کا انتہام لگا دیا اور ایک عورت کو پیش کر دیا۔غرض ان پر ہر قسم کے افترا کئے جاتے ہیں تا لوگ آزمائے جائیں اور یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ خدا کے لگائے ہوئے پودے ان نابکاروں کی پھونکوں سے معدوم کئے جاویں۔یہی ایک نشان اور تمیز ہوتی ہے ان کے خدا کی طرف سے ہونے کی کہ مخالف کوشش کرتے ہیں کہ وہ نابود ہو جائیں اور وہ بڑھتے اور پھولتے ہیں۔ہاں جو خدا کی طرف سے نہ ہو وہ آخر معدوم اور نیست و نابود ہو جاتا ہے لیکن جس کو خدا نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ کسی کی کوشش سے نابود نہیں ہوسکتا۔وہ کاٹنا چاہتے ہیں اور یہ بڑھتا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ خدا کا ہاتھ ہے جو اس کو تھامے ہوئے ہے۔