تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 258
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ سورة العنكبوت کہتے ہیں اس کے یہ معنے ہیں کہ جو پراگندہ دل ہو وہ پراگندہ روزی رہتا ہے اور اول تو صادقوں کے سوانح دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے تئیں پراگندہ روزی بنالیا۔دیکھو حضرت ابوبکر تاجر تھے بڑے معزز۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر سب کو دشمن بنا لیا۔کاروبار میں بھی فرق آگیا۔یہاں تک کہ اپنے شہر سے بھی نکلے۔یہ بات خوب یا درکھو کہ سچی تقویٰ ایسی چیز ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں اور کل پراگندگیوں سے نجات ملتی ہے۔اخبار بدرجلدے نمبر ۷ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۸ صفحه ۳) جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر ان کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش، رحمت اور فضل کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔دیکھو قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ آن يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ صرف زبان سے کہہ لینا تو آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہونا بڑی بات ہے۔القام جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۸) خدا بڑا بے نیاز ہے۔اس کو اس بات کی کیا پرواہ ہے کہ کوئی جہنم میں جاوے یا کہ بہشت میں جاوے کسی کے دوزخ میں جانے سے خدا کا کچھ بگڑتا نہیں اور کسی کے بہشت میں جانے سے سنورتا نہیں۔خدا کا اس میں ذاتی نفع یا نقصان کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمْ لا يُفْتَنُونَ یعنی کیا بس اتنی بات سے کہ لوگ زبان سے اتنا کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے خدا راضی ہو جاتا ہے اور حال یہ کہ ابھی ان کے اس قول کا امتحان نہیں کیا گیا کہ آیا وہ حقیقتاً مومن ہیں بھی یا کہ نہیں اور ان کے اس قول کا صدق و کذب ظاہر نہیں ہوا۔پس سچی اور پکی بات یہی ہے کہ انسان اول صدق ، اخلاص اور گدازش اختیار کر کے اپنے اوپر ہزاروں موتیں بسر کرے جب جا کر اللہ رحم کرتا ہے اور اس کی طرف جھانکتا ہے۔جنتر منتر سے ولی بن جانے والے خیالات کے لوگ اور صرف ایک چھوہ سے آسمانی خزانوں کے مالک بن جانے کے خیالات رکھنے والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔الحکام جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱٫۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۲) انسان دنیوی امتحان کے واسطے کیا کیا تیاریاں کرتا ہے اور کس قدر فکر اور غم اس کو ہوتا ہے اور کیسی کیسی شاقہ محنت برداشت کرتا ہے۔بے فکری ہے تو کس سے؟ دینی امتحان سے نہیں محنت کی جاتی تو کس کے واسطے ؟ دین کے امتحان کے واسطے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفتنون۔اللہ تعالیٰ بھی ایک امتحان کی طرف متوجہ کرتا ہے اس کا بھی کچھ فکر کرنا چاہیے اس امتحان کے واسطے