تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 257
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ سورة العنكبوت ہمارے نبی کریم صلعم کا سب سے بڑھ کر مشکل امتحان ہوا تھا جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي انْقَضَ ظَهرَكَ (الم نشرح : ۳، ۴)۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ ۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۸) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبانی قیل وقال پر ہی ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور صرف اتنا کہنے سے ہی کہ ہم ایمان لے آئے دیندار سمجھے جاویں گے اور ان کا امتحان نہ ہوگا بلکہ امتحان اور آزمائش کا ہونا نہایت ضروری ہے۔سب انبیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ترقی مدارج کے لئے آزمائش ضروری ہے اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طے نہیں کرتا دیندار نہیں بن سکتا۔اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۸) خدا کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ ابتلا ء ضروری ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔کیا لوگوں نے سمجھا کہ چھوڑے جائیں گے یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے اور آزمائے نہ جائیں گے۔گویا ایمان کی شرط ہے آزمایا جانا۔صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے۔ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دیئے۔ان کے اموال پر بھی ابتلاء آئے۔جانوں پر بھی، خویش واقارب پر بھی۔اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجاوے تو اندیشہ کرنا چاہیے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلاء نہ آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔عزیزوں سے جدا ہوئے۔میل ملاپ بند کیا گیا۔ملک سے نکالے گئے۔دشمنوں نے زہر تک دے دیا۔تلواروں کے سامنے زخم کھائے۔اخیر عمر تک یہی حال رہا۔پس جب ہمارے مقتداء و پیشوا کے ساتھ ایسا ہوا تو پھر اس پر ایمان لانے والے کون ہیں جو بچے رہیں۔ایسے ابتلاء جب آویں تو مردانہ طریق سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ابتلاء اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جدا ہو جائے اور کاذب جدا۔خدا رحیم ہے مگر وہ فنی اور بے نیاز بھی ہے۔جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے ساتھ مدد نہ دے تو خدا کی مدد بھی منقطع ہو جاتی ہے۔بعض آدمی صرف اتنی سی بات سے دہر یہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا لڑکا مر گیا یا بیوی مرگئی یا رزق کی تنگی ہوگئی حالانکہ یہ ایک ابتلاء تھا جس میں پورا نکلتے تو انہیں اس سے بڑھ کر دیا جاتا اور رزق کی تنگی سے پراگندہ دل ہونا مومن کا کام متقی کا شیوہ نہیں۔یہ جو پراگنده روزی پراگندہ دل