تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 256
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة العنكبوت ہم کہہ دیں ہم مسلمان ہیں یا مومن ہیں چنانچہ اس نے فرمایا ہے احب النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا یہ لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتنے ہی کہنے پر راضی ہو جاوے اور یہ لوگ چھوڑ دیئے جاویں کہ وہ کہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہو۔یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے کہ پھونک مار کر ولی بنا دیا جاوے۔اگر یہی سنت ہوتی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے اور اپنے جاں نثار صحابہ کو پھونک مار کر ہی ولی بنا دیتے ان کو امتحان میں ڈلوا کر ان کے سر نہ کٹواتے اور خدا تعالیٰ ان کی نسبت یہ نہ فرما تا مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب : ۳۴) یہ نہ : پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجب بیوقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوائے بے دود سمجھتا ہے۔یہ تو سچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۶ صفحه ۳) لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور مسلمان ہیں لیکن وہ اصل میں نہیں ہوتے۔زبانی اقرار تو ایک آسان بات ہے لیکن کر کے دکھانا اور بات ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آحسِبَ النَّاسُ الآية یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ مومن اور پکے ایمان دار ہیں اور ابھی وہ آزمائے نہیں گئے۔پس جب تک آزمائش نہ ہو ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔بہت لوگ ہیں جو آزمائش کے وقت پھسل جاتے ہیں اور تکلیف کے وقت ان کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے۔اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف اتنا کہہ دینے سے ہی کہ ہم ایمان لائے چھوٹ جائیں گے اور ان کا امتحان نہ لیا جاوے گا۔امتحان کا ہونا تو ضروری ہے اور امتحان بڑی چیز ہے۔سب پیغمبروں نے امتحان سے ہی در جے پائے ہیں۔یہ زندگی دنیا کی بھروسہ والی زندگی نہیں ہے۔کچھ ہی کیوں نہ ہو آخر چھوڑنی پڑتی ہے۔مصائب کا آنا ضروری ہے۔دیکھو ایوب کی کہانی میں لکھا ہے کہ طرح طرح کی تکالیف اسے پہنچیں اور بڑے بڑے مصائب نازل ہوئے اور اس نے صبر کئے رکھا۔(الحکم جلد نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) ۱۱ اصل میں ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔اگر انسان عمدہ عمدہ کھانے گوشت پلاؤ اور طرح طرح کے آرام و راحت میں زندگی بسر کر کے خدا کو ملنے کی خواہش کرے تو یہ محال ہے۔بڑے بڑے زخموں اور سخت سے سخت ابتلاؤں کے بغیر انسان خدا کومل ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے آحَسِيبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ غرض بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر توڑنے والا ہو۔