تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 255
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة العنكبوت ڈالے جاویں گے۔سواصل مطلب یہ ہے کہ یہ آزمائش اسی لئے ہے کہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا ایمان لانے والے نے دین کو ابھی دنیا پر مقدم کیا ہے یا نہیں۔آج کل اس زمانہ میں جب لوگ خدا کی راہ کو اپنے مصالح کے برخلاف پاتے ہیں یا بعض جگہ حکام سے ان کو کچھ خطرہ ہوتا ہے تو وہ خدا کی راہ سے انکار کر بیٹھتے ہیں ایسے لوگ بے ایمان ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ فی الواقعہ خدا ہی احکم الحاکمین ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا کی راہ بہت دشوار گزار ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ جب تک انسان خدا کی راہ میں اپنی کھال اپنے ہاتھ سے نہ اتار لے تب تک وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔ہمارے نزدیک بھی ایک بے وفا نوکر کسی قدر و منزلت کے قابل نہیں۔جو نو کر صدق اور وفانہیں دکھلاتا وہ بھی قبولیت نہیں پاتا۔اسی طرح جناب الہی میں وہ شخص پرلے درجہ کا بے ادب ہے جو چند روزہ دنیوی منافع پر نگاہ رکھ کر خدا کو چھوڑتا ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۰ مورخه ۸ /اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۳) لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہے اور کوئی امتحانی مشکل پیش نہ آئے گی یہ بالکل غلط خیال ہے۔اللہ تعالی مومن پر ابتلا بھیج کر امتحان کرتا ہے۔تمام راست بازوں سے خدا کی یہی سنت ہے۔وہ مصائب اور شدائد میں ضرور ڈالے جاتے ہیں۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۵) ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ ابھی امتحان میں نہیں ڈالے گئے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں جمادی جاوے۔وہ نہیں جانتے کہ دین کے کاموں میں کس قدر صبر اور حوصلہ کی حاجت ہے۔اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ دنیا جس کے لئے وہ رات دن مرتے اور ٹکریں مارتے ہیں اس کے کاموں کے لئے تو برسوں انتظار کرتے ہیں۔کسان بیج بو کر کتنے عرصہ تک منتظر رہتا ہے لیکن دین کے کاموں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنا دو اور پہلے ہی دن چاہتے ہیں کہ عرش پر پہنچ جاویں حالانکہ نہ اس راہ میں کوئی محنت اور مشقت اٹھائی اور نہ کسی ابتلاء کے نیچے آیا۔خوب یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اور آئین نہیں ہے یہاں ہر ترقی تدریجی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نری اتنی باتوں سے خوش نہیں ہوسکتا کہ