تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ سورة القصص نہیں بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنت قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت ان پر پوری ہوتی ہے جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آتا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کو سن کر یہی کہا ہے مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي أَبَا بِنَا الْأَوَّلِينَ - القام جلد ۶ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ارجون ۱۹۰۲ صفحه ۵،۴) وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يَاَيُّهَا الْمَلَا مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرِي فَأَوْقِدُ فِي يها من عَلَى القِيْنِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَعَلَى أَطَلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَ إِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ أوْ قِدْ لِي يُهَا مَنُ۔۔۔۔لَعَلَى اطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَ إِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ۔۔۔۔۔اپنے رفیق کو کہا کہ کسی فتنہ یا آزمائش کی آگ بھڑ کا تا میں موسیٰ کے خدا پر۔۔۔مطلع ہو جاؤں کہ کیوں کر وہ اس کی مدد کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۹ حاشیه ) وَ لَوْ لَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَو لَا لَوْلَا اَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ ايْتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ) تا عذاب کے نازل ہونے پر گمراہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اے خدا تو نے قبل از عذاب اپنا رسول کیوں نہ بھیجا تا ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور مومن بن جاتے۔( برائین احمد یہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۰) وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثُ فِي أُمَّهَا رَسُولًا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكى القُرى الا واهلها ظلِمُونَ ) یعنی ہم نے کبھی کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر صرف ایسی حالت میں کہ جب اس کے رہنے والے ظلم پر کمر بستہ ہوں۔یادر ہے کہ اگر چہ شرک بھی ایک ظلم بلکہ ظلم عظیم ہے مگر اس جگہ ظلم سے مراد وہ سرکشی ہے جو حد سے گزر