تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 239

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورة القصص وَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلن هذا سلا مِنْ شِيعَتِهِ وَهُذَا مِنْ عَدُوّهِ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَة مُوسى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن - إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌ مُّبِينٌ۔موسیٰ پر الزام مکا مارنے کا جو عیسائی لگاتے ہیں اس کی نسبت فرمایا کہ وہ گناہ نہیں تھا ان کا ایک اسرائیلی بھائی نیچے دبا ہوا تھا طبعی جوش سے انہوں نے ایک مکا مارا۔وہ مر گیا۔جیسے اپنی جان بچانے کے لئے اگر کوئی خون بھی کر دے تو وہ جرم نہیں ہوتا۔موسیٰ کا قول قرآن شریف میں ہے هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن یعنی قبلی نے اس اسرائیلی کو عمل شیطان (فاسدا رادہ) سے دبایا ہوا تھا۔البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۵) قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کیا کرتا۔انبیاء کی قوت ایمانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا وہ اپنی سعادت جائیں۔اگر کوئی موسیٰ علیہ السلام کے قصہ پر نظر ڈال کر اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ وہ ڈرتے تھے تو یہ بالکل فضول امر ہے ( اور اس ڈر سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ ان کو جان کی فکر تھی بلکہ ان کو یہ خیال تھا کہ منصب رسالت کی بجا آوری میں کہیں اس کا اثر ا چھا نہ پڑے )۔البد رجلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ رستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵۸) فَلَمَّا جَاءَهُمْ مُوسَى بِأَيْتِنَا بَيِّنَةٍ قَالُوا مَا هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُفْتَرَى وَمَا سَمِعْنَا بهذا في ابا بِنَا الأَوَّلِينَ مَا سَعْنَا بِهذا في ابابنا الأولِينَ۔۔۔۔ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء وسلف میں یہ نہیں سنا۔برائن احمد یہ چہار نص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۷۰) ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب ان کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟