تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xxvii
xxvi نمبر شمار مضمون ۲۴۶ ختم نبوت کے بارے حضرت عائشہ کا قول ۲۴۷ آپ کا نام چراغ رکھنے میں حکمت ۲۴۸ آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گذاری کے طور پر درود بھیجیں ۲۴۹ قبولیت دعا کے تین ذرائع ۲۵۰ لفظ ملعون کے بولے جانے کی وضاحت ۲۵۱ ظَلُومًا جَهُولا کی لطیف تشریح ۲۵۲ وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔۔۔۔۔۲۵۳ ظلوم اور جہول کا لفظ اس جگہ محل مدح میں ہے ۲۵۴ اللہ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا ۲۵۵ معجزہ کی تعریف۔نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے ۲۵۶ دابتہ الارض کے معنی ۲۵۷ یہ مسلمان دابتہ الارض ہیں ۲۵۸ ابتدا میں ان تمام مذاہب کی بنیاد حق اور راستی پر تھی ۲۵۹ خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کے رو سے ایک ہی چیز ہے صفح ۳۹۴ ۳۹۶ ۳۹۸ ۳۹۹ ۳۹۹ ۴۰۱ ۴۰۲ ۴۰۵ ۴۰۸ ۴۱۱ ۴۱۳ ۴۱۳ ۴۲۰ ۴۲۳ ۴۲۳ ۴۲۴ ۴۲۶ عالم ربانی سے مراد تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے ۲۶۰ ۲۶۱ ۲۶۲ کتاب کے وارث تین گروہوں کا ذکر