تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 231
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۱ سورة النّمل کو کھاتا تھا۔سورۃ السبا الجز و نمبر ۲۲۔اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابتہ الارض رکھا گیا بس اس سے زیادہ دابتہ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لئے اور کیا شہادت ہوگی کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابتہ الارض کے معنے کیڑا کیا ہے۔سو قرآن کے برخلاف اس کے اور معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔(۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہیے کیونکہ وقعَ الْقَولُ عَلَيْهِمْ کا فقرہ یہی چاہتا ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابتہ الارض آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تا کہ خدا کی حجت دنیا پر پوری کرے۔پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آ سکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلا شبہ دابتہ الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یا جوج ماجوج موجود ہے اور مِنْ كُلِ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کی پیشگوئی تمام دنیا میں پوری ہو رہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی ی تركَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا بھی بخوبی ظاہر ہو چکی ہے اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابتہ الارض زمین میں سے نکلے سودہ بھی نکل آیا۔اس بات پر جھگڑ نا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابتہ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑ نا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے۔(۴) قرینہ چہارم دابتہ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی وہ یہودی بن جائیں گے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں تھے جو آخر کار طاعون وغیرہ بلاؤں سے ہلاک کئے گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اس کی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہوں گے۔۔۔۔چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اسی اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا اور بعض یہودی صفت مسلمانوں میں سے اس کو کا فر قرار دیں گے اور قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت