تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xxvi
صفح ۳۶۹ ۳۷۳ ۳۷۵ ۳۷۸ ۳۸۳ ۳۸۴ ۳۸۵ ۳۸۵ ۳۹۰ ۳۹۴ XXV مضمون نمبر شمار ۲۳۵ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعوی کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۲۳۶ ۲۳۷ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے تو پہلے نبی اور ان کی نبوتوں کے پہلو مخفی رہتے ۲۳ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے ہم جس قوت یقین ، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لا کھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے ۲۳۹ لفظ خاتم کی تشریح ۲۴۱ تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی خدا تعالی کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جوان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کر دے ختم نبوت بھی ایک عجیب علمی سلسلہ ہے ۲۴۲ ختم نبوت کے بارے محی الدین ابن عربی کا مذہب ۲۴۳ نبی کے لفظی اور اصطلاحی معنی ۲۴۴ عظمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عظمت اسلام کی وجہ سے خلیفوں یا صلحاء کے لئے نبی کا لفظ نہ بولا گیا حضرت ابن عربی کا ختم نبوت کے متعلق عقیدہ ۲۴۵