تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 225

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة النمل ہوتا ہے وہ ہے وہ بھی کسی پر نازل ہوتا ہے کہ جب وہ شرارت اور ظلم اور تکبر اور علو اور غلو میں نہایت کو پہنچ مایت کو پہنچ جاتا ہے یہ نہیں کہ ایک کا فر خوف سے مرا جاتا ہے اور پھر بھی عذاب الہی کے لئے اس پر صاعقہ پڑے اور ایک مشرک اندیشہ عذاب سے جاں بلب ہوا اور پھر بھی اس پر پتھر برسیں ۔ خدا وند تعالیٰ نہایت درجہ کا رحیم اور حلیم ہے۔ عذاب کے طور پر صرف اسی کو اس دنیا میں پکڑتا ہے جو اپنے ہاتھ سے عذاب کا سامان تیار کرے۔ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵، ۱۶) امَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَالهُ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ط خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں ۔ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہرگز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہنچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۵۹، ۲۶۰) کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلاء کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا نا ہے کہ قوم نوٹ اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے ان قوموں کو ہلاک کر دیا۔ ( دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۱) دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لئے دل میں درد ہو۔ امنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ - الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۱۳) ۔ یا د رکھو کہ خدا بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا پروانہیں نہیں کرتا۔ دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب