تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 217
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوذُ وذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۲۱۷ سورة النّمل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النَّمل بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِى اَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحْنَ اللهِ رَبِّ العلمين جب موسیٰ آیا تو پکارا گیا کہ برکت دیا گیا ہے جو آگ میں ہے اور جو آگ کے گرد ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے تجسم اور تحیز سے اور وہ رب ہے تمام عالموں کا۔اب دیکھئے اس آیت میں صاف فرما دیا کہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے گرد میں ہے اس کو برکت دی گئی اور خدا تعالیٰ نے پکار کر اس کو برکت دی۔اس سے معلوم ہوا کہ آگ میں وہ چیز تھی جس نے برکت پائی نہ کہ برکت دینے والا۔وہ تو نودی کے لفظ میں آپ اشارہ فرما رہا ہے کہ اس نے آگ کے اندر اور گرد کو برکت دی۔اس سے ثابت ہوا کہ آگ میں خدا نہیں تھا اور نہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے بلکہ اللہ جلشانہ اس وہم کا خود دوسری آیت میں ازالہ فرماتا ہے۔وَسُبحن اللهِ رَبِّ العلمین یعنی خدا تعالی اس حلول اور نزول سے پاک ہے وہ ہر ایک چیز کا رب ہے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۰۷) وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَ عُلُوا فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ® اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا حالانکہ ان کے دل یقین کر گئے۔(برائین احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۷۰ حاشیه در حاشیه نمبر (۴)