تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة الشعراء استعداد زیادہ رکھتی ہے اسی طرح جو شخص صاحب قوت عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کے لئے حکیم والدین رکھتا ہے اور خواہ نخواہ دوسروں کا غم اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے کیونکہ قوت عشقیہ اس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خدا وند کریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اس نے بنی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگ جو لوگوں کی ضرورت ہے سو بعض فطرتیں جنگ جوئی کی استعداد رکھتی ہیں۔اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے۔سو بعض فطرتیں یہی استعداد لے پرخی کر آتی ہیں اور قوت عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں فالحَمدُ لِلهِ عَلَى الْآلَاءِ ظَاهِرِهَا وَبَاطِيها - (احکم جلد ۲ نمبر ۲۵،۲۴ مورخه ۲۰-۲۷ /اگست ۱۸۹۸ صفحه ۱۲) انبیاء خلقت کی ہدایت کے واسطے بہت توجہ کرتے ہیں۔اس کی طرف قرآن شریف میں اشارہ ہے كه لعلك باخع نفسك آنحضرت کو مخلوق کی ہدایت کا اس قدر غم تھا کہ قریب تھا کہ اسی میں اپنے آپ کو ( بدر جلد نمبر ۱۷ مورخہ ۲۷ / جولائی ۱۹۰۵ء صفحه ۲) ہلاک کر دیں۔یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ ایک طرف انبیاء ورسل اور خدا تعالیٰ کے مامورین اہلِ دنیا سے نفور ہوتے ہیں اور دوسری طرف مخلوق کے لئے ان کے دل میں اس قدر ہمدردی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے لئے بھی خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور خود ان کی جان جانے کا اندیشہ ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے لعلك بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ياس قدر ہمدردی اور خیر خواہی ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ تو ان لوگوں کے مومن نہ ہونے کے متعلق اس قدر ہم و غم نہ کر۔اس غم میں شاید تو اپنی جان ہی دے دے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمدردی مخلوق میں کہاں تک بڑھ جاتے ہیں۔اس قسم کی ہمدردی کا نمونہ کسی اور میں نہیں پایا جاتا یہاں تک کہ ماں باپ اور دوسرے اقارب میں بھی ایسی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) وَلَهُمْ عَلَى ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ۔خدا کے نبی شہرت پسند نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے تئیں چھپانا چاہتے ہیں مگر الہی حکم انہیں باہر نکالتا ہے۔دیکھو حضرت موسی کو جب مامور کیا جانے لگا تو انہوں نے پہلے عرض کیا کہ ہارون مجھ سے زیادہ اصح ہے پھر کہا وَلَهُمْ عَلَى ذنب مگر الہی منشاء یہی تھا کہ وہی نبی بنیں اور وہی اس لائق تھے اس لئے حکم ہوا کہ ہم تمہارے