تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 205
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الشعراء اسی لئے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللهِ وَ رَسُولِهِ (النساء : ١٣٧) بظاہر تو یتحصیل حاصل معلوم ہوتی ہوگی لیکن جب حقیقت حال پر غور کیا جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کئی مراتب ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالی تکمیل چاہتا ہے۔غرض ما مور کی ہمدردی مخلوق کے ساتھ اس درجہ کی ہوتی ہے کہ وہ بہت جلد اس سے متاثر ہوتا ہے۔الحاکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحہ ۷) میں تو زبان ہی سے کہتا ہوں دل میں ڈالنا یہ خدا کا کام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے میں کیا کسر باقی رکھی تھی ؟ مگر ابو جہل اور اس کے امثال نہ سمجھے۔آپ کو اس قدر فکر اور غم تھا کہ خدا نے خود فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اللَّا يَكُونُوا مُؤْمِنین اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ہمدردی تھی۔آپ چاہتے تھے کہ وہ ہلاک ہونے سے بچ جاویں مگر وہ بیچ نہ سکے حقیقت میں معلم اور واعظ کا تو اتنا ہی فرض ہے کہ وہ بتا دے۔دل کی کھٹڑ کی تو خدا کے فضل سے کھلتی ہے نجات اسی کو ملتی ہے جو دل کا صاف ہو۔جو صاف دل نہیں وہ اچکا اور ڈاکو ہے خدا تعالیٰ اسے بری طرح مارتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۶ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۶) کوئی نبی اور ولی قوت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا یعنی ان کی فطرت میں حضرت احدیت نے بندگانِ خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے۔پس وہی عشق کی آگ ان سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر ان کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غم خواری خلق اللہ نہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں۔تب بھی وہ اپنے اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتے اور ان کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو اس جانکنی سے کیا اجر ملے گا کیونکہ ان کے جوشوں کی بناء کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قدر غم اور درد کہ تو لوگوں کے مومن بن جانے کے لئے اپنے دل پر اٹھاتا ہے اس سے تیری جان جاتی رہے گی۔سو وہ عشق ہی تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔پس حقیقی پیری مریدی کا یہی احوال ہے اور صادق اسی سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کا قدیمی احوال ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں میں ضرور ہوتی ہے تا وہ سچے غم خوار بننے کے لئے لائق ٹھہریں جیسے والدین اپنے بچہ کے لئے ایک قوت عشقیہ رکھتے ہیں تو ان کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت کی