تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 193
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ سورة الفرقان لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ وہ خادم دین ہو بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے رَبِّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُريَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا یعنی خدا تعالی ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما دے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر ایک شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر کہہ دیا وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اولا د اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔انتقام جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱۰ تا ۱۲) میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں محبت دنیا ان سے کراتی ہے خدا کے واسطے نہیں کرتے۔اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا پر نظر کر کے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمہ اسلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ذکریا کی طرح اولاد دے دے مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اور ملک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں۔میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔اولا د ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو۔یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹) ان ( اولاد۔ناقل ) کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما کا لحاظ ہو کہ یہ اولا د دین کی خادم ہو لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولا ددین کی پہلوان ہو۔بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اور کوئی غرض