تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 188

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ سورة الفرقان عملی عملی حالت کا تو یہ حال ہے کہ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا اور علمی کا یہ حال کہ اس قدر کثرت سے تصنیفات کا سلسلہ اور توسیع زبان کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲۵،۲۴ مورخه ۲۰ تا ۲۷ /اگست ۱۸۹۸ء صفحه ۱۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو جماعت ملی وہ ایسی پاکباز اور خدا پرست اور مخلص تھی کہ اس کی نظیر کسی دنیا کی قوم اور کسی نبی کی جماعت میں ہرگز پائی نہیں جاتی۔احادیث میں ان کی بڑی بڑی تعریفیں آئی ہیں یہاں تک فرمایا کہ الله الله في انتصابی اور قرآن شریف میں بھی ان کی تعریف ہوئی يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ / جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۷ ) قِيَامًا - روحانیت اور پاکیزگی کے بغیر کوئی مذہب چل نہیں سکتا۔قرآن شریف نے بتلایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی یا كُنُونَ كَما تأكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد (۱۲) پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا۔جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا۔انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے۔قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہو تو وہ مذہب چل سکتا ہے اس کے بغیر کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا اور اگر کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا۔( البدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخه ۲/اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۹۰) خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا کہ وہ اپنے رب کے لئے تمام تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔( البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸؍ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۲) میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آر یہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : ۱۲ ) یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی 1999 حالت یہ ہوگئی يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں۔جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشہ کو دیکھنے سے بے اختیار