تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 187
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة الفرقان پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمان کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک برے بھلے پر محیط ہورہی ہے۔( براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد اصلحه ۴۴۹٬۴۴۸ حاشیه ) خدا وہ ہے کہ جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے تا جس نے یاد کرنا ہو وہ یاد کرے یا شکر کرنا ہو تو شکر کرے یعنی دن کے بعد رات کا آنا اور رات کے بعد دن کا آنا اس بات پر ایک نشان ہے کہ جیسے ہدایت کے بعد ضلالت اور غفلت کا زمانہ آجاتا ہے۔ایسا ہی خدا کی طرف سے یہ بھی مقرر ہے کہ ضلالت اور غفلت کے بعد ہدایت کا زمانہ آتا ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۵۴) هون۔۔۔۔۔دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۸) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۹) وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (۶۵) سچے مسلمان ہمیشہ غلبہ اسلام کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اور تہجد بھی پڑھتے ہیں اور نماز میں بھی ان کو رقت طاری ہوتی ہے اور آیت يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا کا مصداق ہوتے ہیں۔انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۸۴) عرب اور دنیا کی حالت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالکل وحشی لوگ تھے کھانے پینے کے سوا کچھ جانتے نہ تھے۔نہ حقوق العباد سے آشنا اور نہ حقوق اللہ سے آگاہ۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک طرف ان کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ يَأْكُلُونَ كَمَا تَأكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : ۱۲) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم نے ایسا اثر کیا يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا کی حالت ہوگئی یعنی اپنے رب کی یاد میں راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے تھے اللہ اللہ کس قدر فضیلت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے ایک بینظیر انقلاب اور عظیم الشان تبدیلی واقع ہوگئی۔حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کو میزان اعتدال پر قائم کردیا اور مردار خوار اور مردہ قوم کو ایک اعلی درجہ کی زندہ اور پاکیزہ قوم بنادیا دوہی خوبیاں ہوتی ہیں علمی یا