تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 186
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶ سورة الفرقان ہوئیں بلکہ ان کا اجر دیا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف میں رحیم کا لفظ بولا ہی گیا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَسْتَلْ بِهِ خَبِيرًان ثمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کی تفسیر کے لئے دیکھیں تفسیر سورۃ اعراف آیت نمبر ۵۵ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمِن قَالُوا وَ مَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوران تَبْرَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ جَعَلَ فِيهَا سِرجًا وَ قَمَرًا مُنِيرًا وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارِ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا وَ عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الجهِدُونَ قَالُو ا سلمان جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ رحمان کے نام سے متنفر ہو کر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمان کیا چیز ہے (پھر بطور جواب فرمایا ) رحمان وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں برج بنائے برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کا فرومومن کے روشنی پہنچاتے ہیں اسی رحمان نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائے جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اُٹھاوے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو وہ شکر کرے۔رحمان کے حقیقی پرستار وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بردباری سے چلتے ہی اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمان بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔