تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 185
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة الفرقان ظہور میں آویں یعنی جب ایک مرد ہزاروں کا کام کرے گا تو بلا شبہ وہ بڑا اجر پائے گا اور یہ امر اس کی افضلیت کا موجب ہوگا سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیاء اور سب رسولوں سے بہتر اور بزرگ تر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی جوہر کی رو سے فی الواقع سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کی رو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہو جائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آویں۔موسیٰ اور ابن مریم کی طرح ایک خاص قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تاہر یک طرف سے اور ہر ایک گروہ اور قوم سے تکالیف شاقہ اٹھا کر اس اجر عظیم کے مستحق ٹھہر جائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۵۲ تا ۶۵۴) وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَ صِهْدًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيدًان خدا وہ ذات قادر مطلق ہے جس نے بشر کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا پھر اس کے لئے نسل اور رشتہ مقرر کر دیا۔اسی طرح وہ انسان کی روحانی پیدائش پر بھی قادر تھا یعنی اس کا قانونِ قدرت روحانی پیدائش میں بعینہ جسمانی پیدائش کی طرح ہے کہ اول وہ ضلالت کے وقت میں کہ جو عدم کا حکم رکھتا ہے کسی انسان کو روحانی طور پر اپنے ہاتھ سے پیدا کرتا ہے اور پھر اس کے متبعین کو کہ جو اس کی ذریت کا حکم رکھتے ہیں برکت متابعت اس کی کے روحانی زندگی عطا فرماتا ہے سو تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور ان کی امت کے نیک لوگ ان کی روحانی نسلیں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلہ بالکل آپس میں تطابق رکھتا ہے اور خدا کے ظاہری اور باطنی قوانین میں کسی نوع کا اختلاف نہیں۔( بر این احمد یہ چہار تحص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۴ تا۶۵۶) قُلْ مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا دوسری صفت رحمان کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ۔پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں۔آپ نے اور آپ کے صحابہ نے جو منتیں اسلام کے لئے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اُٹھا ئیں وہ ضائع نہیں