تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام IA+ سورة الفرقان صحبت کا فیض نہ تھا کہ ان کو کوئی رسالت کا امر نظر آتا۔وہ معذور تھے انہوں نے جو دیکھا تھا اسی کے مطابق رائے زنی کر دی۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ار مارچ ۱۹۰۳، صفحہ ۴) انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ان کو آخر یہی جواب دیا گیا کہ یہ بھی ایک بشر ہے اور بشری حوائج اس کے ساتھ ہیں۔اس سے پہلے جس قدر نبی اور رسول آئے وہ بھی بشر ہی تھے۔یہ بات انہوں نے بنظر استخفاف کہی تھی۔وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بازاروں میں عموماً سودا سلف خریدا کرتے تھے۔ان کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نقشہ تھا وہ تو نری بشریت تھی جس میں کھانا پینا سونا چلنا پھرنا وغیرہ تمام امور اور لوازم بشریت کے موجود تھے اس واسطے ان لوگوں نے رد کر دیا۔یہ مشکل اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دل سے ہی ایک خیالی تصویر بنا لیتے ہیں کہ نبی ایسا ہونا چاہیے اور چونکہ اس تصویر کے موافق وہ اسے نہیں پاتے اس لحاظ سے ٹھو کر کھاتے الحکم جلد 4 نمبر ۷ ۳ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) ہیں۔۹ طعام سے مراد اچھا مکلف کھانا ہے۔جب انکار حد سے گزر جاتا ہے تو ایسے ہی اعتراض سوجھتے ہیں۔( بدر جلدے نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۳) وَ مَا اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ في ج الْأَسْوَاقِ ، وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًان ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ تمام نبی نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ بازاروں میں پھرتے ہیں اور پہلے ہم بہ نص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۱) وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ۔یعنی ظالم اپنا ہاتھ کاٹے گا۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۴۴)