تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 179

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة الفرقان وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْ لَا أُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكَ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًان پھرے۔عرب کے کفار کا ایک یہ اعتراض خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِي فِي الاسواق یعنی یہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں پھرتا ہے۔ان کے نزدیک روٹی کھانا یا عمدہ کھانا استعمال کرنا شان نبوت کے برخلاف تھا اور نیز یہ اعتراض تھا کہ نبی گوشہ گزین ہونا چاہیے نہ یہ کہ بازاروں میں بھی چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۹۷ حاشیه ) انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک تصرف تو اسی مخلوق کی نوعیت اور اعتبار سے ہوتا ہے جو يَأكُلُ الطعام وَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ وغیرہ کے رنگ میں ہوتا ہے۔صحت بیماری وغیرہ اس کے ہی اختیار میں ہوتا ہے اور ایک جدید تصرف قرب کے مراتب میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے طور پر ان کے قریب ہوتا ہے کہ ان سے مخاطبات اور مطالعات شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی دعاؤں کا جواب ملتا ہے مگر بعض لوگ نہیں سمجھ سکتے اور یہاں تک ہی نہیں بلکہ نرے مطالعہ اور مخاطبہ سے بڑھ کر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ الوہیت کی چادران پر پڑی ہوئی ہوتی ہے اور خدائے تعالیٰ اپنی ہستی کے طرح طرح کے نمونے ان کو دکھاتا ہے اور یہ ایک ٹھیک مثال اس قرب اور تعلق کی ہے کہ جیسے لوہے کو کسی آگ میں رکھ دیں تو وہ اثر پذیر ہو کر سرخ آگ کا ایک ٹکڑا ہی نظر آتا ہے اس وقت اس میں آگ کی سی روشنی بھی ہوتی ہے اور احراق جو ایک صفت آگ کی ہے وہ بھی اس میں آجاتی ہے مگر بایں ہمہ یہ ایک بین بات ہے کہ وہ لو با آگ یا آگ کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔اسی طرح سے ہمارے تجربہ میں آیا ہے کہ اہل اللہ قرب الہی میں ایسے مقام تک جا پہنچتے ہیں جبکہ ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بوکو تمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متواری کر لیتا ہے اور جس طرح آگ لوہے کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور ظلی طور پر وہ صفات الہیہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۱،۱۴۰) کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مَالِ هَذَا الرَّسُوْلِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ تو انہوں نے بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حالت دیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی۔یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے۔کھا تا پیتا بازاروں میں پھرتا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی