تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 157
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النُّور لَمَّا جُعِلَ أَبِي خَلِيفَةً وَفَوَّضَ اللهُ إِلَيْهِ میرے باپ خلیفہ بنائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے امر خلافت الْإِمَارَةَ فَرَأَى بِمُجَرَّدِ الْإِسْتِخْلافِ آپ کو تفویض کیا تو آپ نے خلیفہ بنتے ہی فتنوں کو ہر تَمَوُّجَ الْفِتَنِ مِنْ كُلِ الأَطرافِ طرف سے موجزن پایا اور یہ کہ جھوٹے نبوت کے مدعی وَمَوْرَ الْمُتَنَبِيِّينَ الْكَاذِبِينَ وَبَغَاوَةً جوش میں ہیں اور منافق مرتد لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں سو الْمُرْتَدِينَ الْمُنَافِقِينَ فَصَبَّتْ عَلَيْهِ آپ پر اس قدر مصائب آ پڑے کہ اگر پہاڑوں پر اتنی مَصَائِبٌ لَوْ صُبَّتْ عَلَى الْجِبَالِ لا مهلت مصیبتیں نازل ہوتیں تو وہ ٹوٹ کر گر جاتے اور ریز و ریزہ وَسَقَطَتْ وَالْكَسَرَت فِي الْحَالِ، وَلكِنَّهُ ہو جاتے۔لیکن آپ کو رسولوں کی طرح ایک صبر عطا کیا گیا أُعْطِيَ صَبْرًا كَالْمُرْسَلِينَ، حَتَّی جَاءَ نَصْرُ یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آئی اور جھوٹے مدعیان نبوت الله وَقُتِلَ الْمُتَنَتِنُونَ وَأُهْلِك قتل کئے گئے اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے اور فتوں اور الْمُرْتَدُّوْنَ، وَأَزِيلَ الْفِتَنُ وَدُفعَ الْمِحْنُ مصائب کا قلع قمع کر دیا گیا اور معاملے کا فیصلہ کر دیا گیا اور وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَقَامَ أَمْرُ الخلافة امر خلافت مضبوط ہو گیا اور اللہ نے مومنوں کو مصیبت سے وَلّى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْأُفَةِ، وَبَدِّل نجات بخشی اور ان پر خوف طاری ہونے کے بعد اسے مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا، وَمَكَّنَ لَهُمْ امن میں بدل دیا اور ان کے دین کو مضبوط کر دیا۔اور دِينَهُمْ وَأَقَامَ عَلَى الْحَق زَمَنًا وَسَوَّدَ مفسدین کے منہ کالے کر دیئے اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا وُجُوْةَ الْمُفْسِدِينَ، وَأَلْجَزَ وَعُدَهُ وَنَصَر اور اپنے بندے ابو بکر صدیق کی مدد فرمائی اور سرکشوں اور عبْدَهُ الصَّدِيقَ وَأَبَادَ الطَّوَاغِيْتَ بڑے بڑے بتوں کو تباہ کر دیا اور کفار کے دلوں میں رعب وَالْغَرَانِيقَ وَأَلْقَى الرُّعْبَ فِي قُلُوب ڈال دیا پس وہ شکست کھا گئے اور انہوں نے حق کی طرف الكُفَّارِ، فَانْهَزَمُوا وَرَجَعُوا وَتَابُوا وَكَانَ رجوع کیا اور سرکشی سے توبہ کی اور یہ غالب خدا کا وعدہ هذا وعد من الله الْقَهَّارِ، وَهُوَ أَصْدَقُ تھا جو تمام بچوں سے زیادہ سچا ہے۔پس دیکھو کس طرح الصَّادِقِينَ فَانْظُرُ كَيْفَ تَمَّ وَعُدُ خلافت کا وعدہ اپنے تمام لوازم اور نشانات کے ساتھ الْخِلَافَةِ مَعَ جَمِيعِ لَوَازِمِهِ وَإِمَارَاتِهِ في حضرت ابوبکر کی ذات میں پورا ہوا اور تمہیں اللہ تعالیٰ الصَّدِيقِ، وَادْعُ اللهَ أَنْ يَشْرَحَ صَدْرَكَ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ تمہارا سینہ اس تحقیق کے لئے لِهَذَا التَّحْقِيقِ، وَتَدَبَّرُ كَيْفَ كَانَت کھول دے۔اور غور کرو کہ حضرت ابوبکر کے خلیفہ منتخب