تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 156
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة النور مِائَةِ أَلْفٍ مِنَ الْجَهَلَةِ الْفَجَرَةِ، وَهَاجَتِ فتنوں نے جوش مارا اور مصائب بڑھ گئے اور قسم قسم کی الْفِتَنُ وَكَثُرَتِ الْبِحَنُ، وَأَحَاطَتِ بلاؤں نے دور و نزدیک سے مسلمانوں کا احاطہ کر لیا اور الْبَلَايَا قَرِيبًا وَبَعِيدًا ، وَزُلْزِلَ الْمُؤْمِنُونَ مؤمن ایک سخت زلزلہ میں مبتلا کئے گئے اور مسلمانوں میں زِلْزَالًا شَدِيدًا۔ هُنَالِكَ ابْتُلِيَتْ كُلُّ سے ہر فرد آزمائش میں ڈالا گیا اور خوفناک اور حواس کو نَفْسٍ مِنَ النَّاسِ، وَظَهَرَتْ حَالات دہشت ناک کرنے والے حالات پیدا ہو گئے اور مومن تُخَوفَةٌ مُدْهِشَةُ الْحَوَاشِ، وَكَانَ بے چارگی کی حالت کو پہنچ گئے ۔ گویا ایک انگارا تھا جو ان الْمُؤْمِنُونَ مُضْطَرِّينَ كَأَنَّ جَمْرًا أَضْرِمَت کے دلوں میں بھڑ کا یا گیا یا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چھری فِي قُلُوبِهِمْ أَوْ ذُبِحُوا بِالسِّيِّينَ وَكَانُوا کے ساتھ ذبح کر دیئے گئے ہیں بھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ يَبْكُونَ تَارَةً مِنْ فِرَاقِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وسلم کے فراق کی وجہ سے اور کبھی آگ کی مانند جلا دینے وَأُخْرَى مِنْ فِتَن ظَهَرَتْ كَالثِيرَانِ والے فتنوں کی وجہ سے روتے تھے اور امن وامان کا کوئی الْمُحْرِقَةِ، وَلَمْ يَكُنْ أَثَرًا مِنْ أَمْن نشان باقی نہ رہا اور فتنوں میں پڑے ہوئے مسلمان ایسے وَغُلِبَتِ الْمُفْتَتِنُونَ كَخَضْرَاءِ دِمَن مغلوب ہو گئے جیسے روڑی کے اُوپر اُگی ہوئی گھاس اس کو فَزَادَ الْمُؤْمِنُونَ خَوْفًا وَفَزَعًا، وَمُلِئَتِ ڈھانپ لیتی ہے۔ پس مومنوں کا خوف اور گھبراہٹ بڑھ الْقُلُوبُ دَهْشًا وَجَزَعًا فَفِي ذلِك گیا اور ان کے دل دہشت اور کرب سے بھر گئے تو ایسے الْأَوَانِ جُعِلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وقت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زمانے کا حاکم اور خاتم حَاكِمُ الزَّمَانِ وَخَلِيفَةً خَاتَمِ النجمين صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بنایا گیا۔ اسلام پر حالات النَّبِيِّينَ فَغَلَبَ عَلَيْهِ هَمْ وَغَةٌ مِّنْ واردہ کی وجہ سے اور ان باتوں کی وجہ سے جو آپ نے أَطْوَارٍ رَّاهَا، وَمِنْ آثَارِ شَاهَدَهَا فِي منافقوں ، کافروں اور مرتدین کی طرف سے دیکھیں آپ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ وَالْمُرْتَدِينَ پر سخت غم طاری ہو گیا اور آپ موسم ربیع کی بارش رش کی کی طرح وَكَانَ يَبْكِي كَمَرَابِيعِ الرَّبِيعِ، وَتَجْرِى روتے تھے اور آپ کے آنسو چشموں کی طرح بہتے تھے اور عَبَرَاتُهُ كَالْيَنَابِيعِ، وَيَسْأَلُ اللهَ خَيْرَ آپ اللہ تعالیٰ سے اسلام اور مسلمانوں کی بہتری اور بھلائی الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ چاہتے تھے۔ وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب