تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 156

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة النُّور مِائَةِ أَلْفٍ مِنَ الْجَهَلَةِ الْفَجَرَةِ، وَهَاجَتِ فتنوں نے جوش مارا اور مصائب بڑھ گئے اور قسم قسم کی الْفِتَنُ وَكَثْرَتِ الْمَحْنُ وَأَحاطت بلاؤں نے دور و نزدیک سے مسلمانوں کا احاطہ کر لیا اور الْبَلايَا قَرِيبًا وَبَعِيدًا، وَزُلْزِلَ الْمُؤْمِنُونَ مومن ایک سخت زلزلہ میں مبتلا کئے گئے اور مسلمانوں میں زِلْزَالًا شَدِيدًا۔هُنالِكَ ابْتُلِيَتْ كُل سے ہر فرد آزمائش میں ڈالا گیا اور خوفناک اور حواس کو نَفْسٍ مِنَ النَّاسِ وَظَهَرَتْ حَالات دہشت ناک کرنے والے حالات پیدا ہو گئے اور مومن فَخَوَفَةٌ مُدْهِشَةُ الْعَوَاتِ وَتَكَان بے چارگی کی حالت کو پہنچ گئے۔گویا ایک انگارا تھا جو ان الْمُؤْمِنُونَ مُضْطَرِينَ تَكَانَ عِمْرًا أُخرِمَتْ کے دلوں میں بھڑکا یا گیا یا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چھری في قُلُوبِهِمْ أَوْ ذُيَحُوا بِالسّكِينَ، وَكَانُوا کے ساتھ ذبح کر دیئے گئے ہیں کبھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ يَبْكُونَ تَارَةً مِنْ فِرَاقِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَسلم کے فراق کی وجہ سے اور کبھی آگ کی مانند جلا دینے وَأُخْرَى مِنْ فِتَنٍ ظَهَرَتْ كَالپیرانِ والے فتنوں کی وجہ سے روتے تھے اور امن و امان کا کوئی الْمُحْرِقَةِ، وَلَمْ يَكُن أَثَرًا مِنْ أَمَن نشان باقی نہ رہا اور فتنوں میں پڑے ہوئے مسلمان ایسے وغُلِبَتِ الْمُفْتَتِنُونَ كَغَضْرَاءِ دِمَن مغلوب ہو گئے جیسے روڑی کے او پر اُگی ہوئی گھاس اس کو فَزَادَ الْمُؤْمِنُونَ خَوْفًا وَفَزَعًا، وَمُلِئَتِ ڈھانپ لیتی ہے۔پس مومنوں کا خوف اور گھبراہٹ بڑھ الْقُلُوبُ دَهْشًا وَجَزَعًا۔ففي ذلك گیا اور ان کے دل ودہشت اور کرب سے بھر گئے تو ایسے الْأَوَانِ جُعِلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وقت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو زمانے کا حاکم اور خاتم حَاكِمُ الزَّمَانِ وَخَلِيفَةً نَخَاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بنایا گیا۔اسلام پر حالاتِ النَّبِيِّينَ۔فَغَلَبْ عَلَيْهِ هُمْ وَغَم تین واردہ کی وجہ سے اور ان باتوں کی وجہ سے جو آپ نے أَطوَارٍ رَّاهَا، وَمِنْ آثَارِ شَاهَدَهَا في منافقوں ، کافروں اور مرتدین کی طرف سے دیکھیں آپ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ وَالْمُرْتَنِينَ پر سخت غم طاری ہو گیا اور آپ موسم ربیع کی بارش کی طرح وَكَانَ يَبْكِي كَمَرَابِيع الربيع۔وَتَجْرِى روتے تھے اور آپ کے آنسو چشموں کی طرح بہتے تھے اور عَبْرَاتُه كَالْيَتَابِيْعِ، وَيَسْأَلُ اللهَ خَيْرَ آپ اللہ تعالیٰ سے اسلام اور مسلمانوں کی بہتری اور بھلائی الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ چاہتے تھے۔وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب