تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 146
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة النُّور گول شکل پر پیدا کئے گئے ہیں تا خدا کے ہاتھ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ناقص نہ ہوں۔اسی بنا پر ماننا پڑتا ہے کہ زمین کی شکل بھی گول ہے۔کیونکہ دوسری تمام شکلیں کمال تام کے مخالف ہیں اور جو چیز خدا کے ہاتھ سے بلا واسطہ نکلی ہے اس میں مناسب حال مخلوقیت کے کمال تام ضرور چاہئے تا اس کا نقص خالق کے نقص کی طرف عائد نہ ہو۔اور نیز اس لئے بسائط کا گول رکھنا خدا تعالیٰ نے پسند کیا کہ گول میں کوئی جہت نہیں ہوتی۔اور یہ امر توحید کے بہت مناسب حال ہے۔غرض صنعت کا کمال مدوّر شکل سے ہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اس میں انتہائی نقطہ اس قدر اپنے کمال کو دکھلاتا ہے کہ پھر اپنے میدہ کو جاملتا ہے۔اب ہم پھر اپنے اصل مدعا کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو حضرت سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے پہلے خلیفہ تھے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے پہلے خلیفہ ہیں اشد مشابہت ہے تو پھر اس سے لازم آیا کہ جیسا کہ سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا پہلا خلیفہ سلسلہ موسویہ کی خلافت کے پہلے خلیفہ سے مشابہت رکھتا ہے ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا آخری خلیفہ جو مسیح موعود سے موسوم ہے سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے جو حضرت عیسی بن مریم ہے مشابہت رکھے تا دونوں سلسلوں کی مشابہت تامہ میں جو نص قرآنی سے ثابت ہوتی ہے کچھ نقص نہ رہے کیونکہ جب تک دونوں سلسلے یعنی سلسلہ موسویہ وسلسلہ محمد یہ اوّل سے آخر تک باہم مشابہت نہ دکھلائیں تب تک وہ مماثلت جو آیت گیا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ میں گما کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ثابت نہیں ہو سکتی۔اور پھر چونکہ ہم ابھی حاشیہ میں اکمل اور اتم طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مسیح موعود سے مشابہت رکھتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت ابو بکر حضرت یوشع بن نون سے مشابہت رکھتے ہیں۔اور حضرت یشوع بن نون اس قاعدہ کے رو سے جو دائرہ کا اول نقطہ دائرہ کے آخر نقطہ سے اتحاد کھتا ہے جیسا کہ ابھی ہم نے حاشیہ میں لکھا ہے حضرت عیسیٰ بن مریم سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس سلسلہ مساوات سے لازم آیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اسلام کے مسیح موعود سے جو شریعت اسلامیہ کا آخری خلیفہ ہے مشابہت رکھتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ حضرت یشوع بن نون سے مشابہ ہیں اور حضرت یشوع بن نون حضرت ابو بکر سے مشابہ۔اور پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت ابو بکر اسلام کے آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود سے مشابہ ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسی اسلام کے آخری خلیفہ سے جو مسیح موعود ہے مشابہ ہیں۔کیونکہ مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا