تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 144

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة النُّور کہ دریا سخت طوفان میں تھا اور کوئی جہاز نہ تھا اور ہر ایک طرف سے دشمن کا خوف تھا۔یہی ابتلا حضرت ابو بکر کو پیش آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ارتداد عرب کا ایک طوفان برپا ہو گیا اور جھوٹے پیغمبروں کا ایک دوسرا طوفان اس کو قوت دینے والا ہو گیا۔یہ طوفان یوشع کے طوفان سے کچھ کم نہ تھا بلکہ بہت زیادہ تھا اور پھر جیسا کہ خدا کی کلام نے حضرت یوشع کو قوت دی اور فرمایا کہ جہاں جہاں تو جاتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں تو مضبوط ہو اور دلاور بن جا اور بے دل مت ہو۔تب یشوع میں بڑی قوت اور استقلال اور وہ ایمان پیدا ہو گیا جو خدا کی تسلی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی حضرت ابوبکر کو بغاوت کے طوفان کے وقت خدا تعالیٰ سے قوت ملی۔جس شخص کو اس زمانہ کی اسلامی تاریخ پر اطلاع ہے وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا سخت طوفان تھا کہ اگر خدا کا ہاتھ ابوبکر کے ساتھ نہ ہوتا اور اگر در حقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا اور اگر در حقیقت ابوبکر خلیفہ حق نہ ہوتا تو اس دن اسلام کا خاتمہ ہو گیا تھا۔مگر یشوع نبی کی طرح خدا کے پاک کلام سے ابوبکر صدیق کو قوت ملی کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس ابتلا کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔چنانچہ جو شخص اس آیت مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھے گا وہ یقین کرلے گا کہ بلاشبہ اس ابتلا کی خبر قرآن شریف میں پہلے سے دی گئی تھی اور وہ خبر یہ ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۖ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی خدا نے مومنوں کو جو نیکو کار ہیں وعدہ دے رکھا ہے جو ان کو خلیفے بنائے گا انہی خلیفوں کی مانند جو پہلے بنائے تھے اور اُسی سلسلہ خلافت کی مانند سلسلہ قائم کرے گا جو حضرت موسیٰ کے بعد قائم کیا تھا اور اُن کے دین کو یعنی اسلام کو جس پر وہ راضی ہواز مین پر جمادے گا اور اُس کی جڑ لگا دے گا اور خوف کی حالت کو امن کی حالت کے ساتھ بدل دے گا۔وہ میری پرستش کریں گے کوئی دوسرا میرے ساتھ نہیں ملائیں گے۔دیکھو اس آیت میں صاف طور پر فرما دیا ہے کہ خوف کا زمانہ بھی آئے گا اور امن جاتا رہے گا مگر خدا اس خوف کے زمانہ کو پھر امن کے ساتھ بدل دے گا۔سو یہی خوف یشوع بن نون کو بھی پیش آیا تھا اور جیسا کہ اس کو خدا کے کلام سے تسلی دی گئی ایسا ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی خدا کے کلام سے تسلی دی گئی اور چونکہ ہر ایک سلسلہ میں خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ اس کا کمال تب ظاہر ہوتا ہے کہ جب آخر حصہ سلسلہ کا پہلے حصہ سے مشابہ ہو جائے اس لئے ضروری ہوا کہ موسوی اور محمدی سلسلہ کا پہلا خلیفہ موسوی اور محمدی سلسلہ