تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 130

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة النُّور سلسلہ کو لمبا کیا۔پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا چنانچہ اس نے خود فرمایا وَ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النساء: (۱۱۴) اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( ال عمران : ۱۱۱ ) تو پھر کیوں کر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تیس برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے اور نیز جب کہ یہ امت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت اخْرِجَتْ للنا میں کے کیا معنی ہیں کوئی بیان تو کرے۔مثل مشہور ہے کہ او خویشتن گم است کرار ہبری کند۔جب کہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مدنظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے۔کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیوں کر کہتے ہو کہ خلافت صرف تیس برس تک ہو کر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی۔اتقو الله - اتقو الله - اتقو الله (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۲ تا ۳۵۵) مماثلت تامه کامله استخلاف محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی استخلاف موسوی سے مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہراتی ہے جیسا کہ آیت مندرجہ ذیل سے مفہوم ہوتا ہے یعنی آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ صاف بتلا رہی ہے کہ ایک مجد د حضرت مسیح کے نام پر چودھویں صدی میں آنا ضروری ہے کیوں کہ امر استخلاف محمدی امر استخلاف موسوی سے اسی حالت میں اکمل اور اتم مشابہت پیدا کر سکتا ہے کہ جب کہ اول زمانہ اور آخری زمانہ با ہم نہایت درجہ کی مشابہت رکھتے ہوں اور آخری زمانہ کی مشابہت دو باتوں میں تھی ایک امت کا حال ابتر ہونا اور دنیا کے اقبال میں ضعف آجانا اور دینی دیانت اور ایمانداری اور تقویٰ میں فرق آجانا دوسرے ایسے زمانہ میں ایک مجدد کا پیدا ہونا جو مسیح موعود کے نام پر آوے اور ایمانی حالت کو پھر بحال کرے سو پہلی علامت کو ہمارے بھائی مسلمان صرف قبول ہی نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کا ادبار اور ایک ایسی غیر قوم کا اقبال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جوان