تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 123

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۳ سورة النُّور رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلِيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة : ۳) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے۔ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن دوسری تا ثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتوبہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائد و تا ثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہوسکتی ہے کہ جب وقتاً فوقتاً نائب رسول آویں جن میں ظلی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہیں جیسا کہ ان آیات میں اسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكنَنَّ لَهُمُ دِينَهُمُ الَّذِى ارتضى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۖ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ - پس یہ آیت در حقیقت اس دوسری آیت اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر :١٠) کے لئے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیوں کر اور کس طور سے ہوگی سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا۔اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا پھر ان کے آنے کے بعد جو اُن سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں۔اس جگہ معترض صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى (المائدۃ : ۴) اور پھر اعتراض کیا ہے کہ جب کہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہو چکی تو پھر نہ کسی مجدد کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی مگر افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کر کے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ ابھی گزر