تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 122
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۲ سورة النور محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے عدول کرتا ہے اور جب تک پورا ثبوت اس دعویٰ کا پیش نہ کرے تب تک وہ ایسے طریق کے اختیار کرنے میں ایک ملحد ہے کیا قرآن صرف صحابہ کے واسطے ہی نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے وعد اور دعید اور تمام احکام صحابہ تک ہی محدود ہیں تو گویا جو بعد میں پیدا ہوئے وہ قرآن سے بکلی بے تعلق ہیں ۔ نعوذ بالله من هذه الخرافات۔ اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خلافت تیس سال تک ہو گی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ قُلَةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ - وَقُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( الواقعة : ۴۱،۴۰) تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اس کے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کسی قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی ھذا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پا یہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے کیا معترض نے غور نہیں کی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت بعض خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارث آئے گا۔ مہدی آئے گا۔ آسمانی خلیفہ آئے گا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں ۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔ اول خلافت راشدہ کا زمانہ پھر فیج اعوج جس میں ملک عضوض ہوں گے اور بعد اس کے آخری زمانہ جو زمانہ نبوت کے نہج پر ہوگا۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا اول زمانہ اور پھر آخری زمانہ با ہم بہت ہی متشابہ ہیں اور یہ دونوں زمانے اس بارش کی طرح ہیں جو ایسی خیر اور برکت سے بھری ہوئی ہو کہ کچھ معلوم نہیں کہ برکت اس کے پہلے حصہ میں زیادہ ہے یا پچھلے میں ۔ اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ (الحجر : ۱۰) یعنی ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔ اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کے وجود کا فائدہ کیا ہے جس فائدہ کے وجود پر اس کی حقیقی حفاظت موقوف ہے تو اس دوسری آیت سے ظاہر ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ