تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 116
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٦ سورة النُّور تناسخ کے اُن کی رُوحیں پھر آجانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیوں کر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیا جاتا ہے جن کی وفات پر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة : ۱۱۸) بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ دنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسی کا بجسده العصری پھر زمین پر آجانا بہت معقول ہے۔پھر اگر نصوص پینه صریحہ قرآنیہ کو باعث استبعاد ظاہری معنوں کے مؤوّل کر کے طریق صرف عن النظا ہر اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ نصوص احادیثیہ کا صرف عن الظاہر جائز نہیں کیا احادیث کی قرآن کریم سے کوئی اعلیٰ شان ہے کہ تا ہمیشہ احادیث کے بیان کو کو کیسا ہی بعید از عقل ہو ظاہر الفاظ پر قبول کیا جائے اور قرآن میں تاویلات بھی کی جائیں۔پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ بعض صاحب آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ منکر سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافتِ راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہو گئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام ونشان نہیں ہوگا۔گویا ایک خواب و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تین برس ہی دور تھا اور پھر ہمیشہ کے لئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑ گیا مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقادر کھے کہ بلا شبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممند ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدودر ہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے رُوحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کوشن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالا کی اور پیا کی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ما سوٹی اس کے منکھ کے لفظ سے یہ استدلال پیدا کرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحابہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔اب واضح ہو کہ منکھ کا لفظ قرآن کریم میں قریباً بیا کئی جگہ آیا ہے اور بجز دو یا تین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو