تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 105

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة النور خداوہ ہے جو زمین اور آسمان میں اسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه (۹۷) خدا ہر ایک چیز کا نور ہے اسی کی چمک ہر ایک چیز میں ہے خواہ وہ چیز آسمان میں ہے اور خواہ وہ زمین میں ۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰) رِجَالُ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعَ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ إِقَامِ الصَّلُوةِ وَ ابْتَاءِ الزَّكوة يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یاد الہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے اور نہ بیچ مانع ہوتی ہے یعنی محبت الہیہ میں ایسا کمال تامر نہیں ہو سکتیں۔ ا نام رکھتے ہیں۔ کہ دنیوی مشغولیاں گو کیسی ہی کثرت سے پیش آویں ان کے حال میں خلل انداز براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) یہ ایک ہی آیت صحابہ کے حق میں کافی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور انگریز بھی اس کے معترف ہیں۔ ان کی کہیں نظیر ملنا مشکل ہے۔ باد پیشیں لوگ اور اتنی بہادری اور جرات ۔ تعجب آتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۶) یا درکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْع عَنْ ذِكْرِ اللهِ جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔ اسی طرح جو لوگ خدا کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا کو فراموش نہیں کرتے۔ (احکم جلد ۸ نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۴ صفحه ۱) دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے سوائے اس حالت کے جب خدا چاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے کہ وہ دنیا کے کاروبار میں پڑ کر بھی اپنے دین کو مقدم رکھے اور ایسے شخص بھی دنیا میں ہوتے ہیں چنانچہ ایک شخص کا ذکر تذکرہ اولیاء میں ہے کہ ایک شخص ہزار ہا روپیہ کے لین دین کرنے میں مصروف تھا ایک ولی اللہ نے اس کو دیکھا اور کشفی نگاہ اس پر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا دل با وجود اس قدر لین دین روپیہ کے خدا تعالیٰ سے ایک دم غافل نہ تھا۔ ایسے ہی آدمیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لا تُلهيهم